خطبات محمود (جلد 5) — Page 394
خطبات محمود جلد (5) ۳۹۳ انسان کے منتظر ہیں۔لیکن غیر احمدیوں نے اپنے خیال میں حضرت مسیح موعود پر یہ ایک ایسا حملہ کیا تھا جس کے متعلق انہیں یقین تھا کہ ضرور نقصان دہ ثابت ہوگا۔مگر جو کچھ اس کا نتیجہ ہوا۔وہ سب کو معلوم ہے۔اسی طرح مولوی محمد احسن صاحب نے اپنے خیال میں ہم پر یہ ایک بڑا ھر بہ چلایا ہے مگر وہ یا درکھیں کہ اس سے کچھ نہیں بنے گا۔ان کی اس قسم کی تحریروں کو پڑھ کر تو کوئی جاہل سے جاہل حاکم بھی دھو کہ نہیں کھا سکتا۔مگر ہمارے حاکم تو بڑے عقلمند اور دانا ہیں۔وہ مولوی صاحب کے دھو کہ میں کس طرح آسکتے ہیں۔میں تو یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ اگر کوئی اندھی نگری چوپٹ راجا بھی ہوتا۔تو بھی ان کے دھوکہ میں نہ آتا۔گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ ہماری کیا حیثیت ہے اور ان کی کیا۔اور جن کے ساتھ وہ اب جا کر ملے ہیں۔ان کے متعلق بھی گورنمنٹ کو خوب معلوم ہے کہ سیاست سے کیسا اور کہاں تک تعلق رکھتے ہیں۔خواجہ صاحب با وجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت ناپسند فرمانے کے مسلم لیگ میں داخل ہو گئے۔پھر خواجہ صاحب نے ولایت جا کر وزیر اعظم تک کو دھمکیاں دیں۔اور لکھا کہ اگر ترکوں سے جنگ کی گئی تو ساری دنیا ان کی مدد کے لئے اٹھ کھڑی ہوگی۔حالانکہ یہ بالکل غلط تھا۔چنانچہ اب جبکہ جنگ ہوئی تو بجائے اس کے ترکوں کی مدد کے لئے کوئی اٹھتا۔ان کے اپنے صوبے ہی ان سے الگ ہو رہے ہیں۔تو جن لوگوں کے لیڈروں کے ایسے خیالات ہوں۔ان میں شامل ہو کر ہمارے متعلق یہ الزام لگانا کہ ہم سیاسی خیالات رکھتے ہیں۔صریح طور پر دھوکہ دہی نہیں تو اور کیا ہے۔کیونکہ اس قسم کے خیالات تو ان کے ہیں نہ کہ ہمارے۔مولوی صاحب خود ہی غور کریں کہ سب سے پہلی بات جس پر انہوں نے اظہار ناراضگی کیا۔وہ کیا تھی۔وہ ی تھی کہ ابوالکلام کے خلاف الفضل میں کیوں لکھا گیا ہے۔(اس کے متعلق ہمارے پاس مولوی صاحب کا خط محفوظ ہے۔اگر وہ چاہیں تو ہم شائع کر سکتے ہیں۔ایڈیٹر افضل ) اور ابوالکلام وہ شخص ہے جس کو گورنمنٹ نے نظر بند کر رکھا ہے۔اور جس کے متعلق حال ہی میں اعلان ہوا ہے کہ وہ چونکہ ہر مجسٹی ملک معظم کے دشمنوں سے غذارا نہ خط و کتابت کرتا رہا ہے۔اس لئے اس کے متعلق خاص نگرانی کے احکام نافذ کئے جاتے ہیں۔ایسے شخص کے متعلق کچھ لکھنے پر ناراض ہونے والے کو اپنے اوپر غور کر لینا چاہیئے۔پھر مولوی صاحب تو کہتے ہیں کہ وہ حدیثیں جن میں حضرت مسیح موعود کا ذکر ہے۔حضرت مسیح موعود پر اپنے لفظی معنوں کے لحاظ سے چسپاں نہیں ہوتیں اور شاید یہ معنی کر کے کوئی اور مسیح آجائے۔اور وہ وہی ہو جو تلوار لے کر لڑے گا۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس کے خیالات سیاسی ہیں۔ہمارے یا ان کے۔باوجود اس کے ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ اپنی خلافت سیاسی خلافت سمجھتے ہیں۔جو محض دشمنی اور عداوت کی وجہ