خطبات محمود (جلد 5) — Page 395
خطبات محمود جلد (5) ۳۹۴ سے ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عداوت اور دشمنی کی وجہ سے حد سے نہیں بڑھنا چاہیئے۔لیکن ان کو اس کی بھی کچھ پرواہ نہیں ہے۔ہم گورنمنٹ کے متعلق وفاداری کے جو خیالات رکھتے ہیں اور جس طرح ہم نے اس جنگ میں گورنمنٹ کی خدمت کی ہے اور ہماری خدمات کے متعلق گورنمنٹ نے جو کچھ لکھا ہے وہ کوئی پوشیدہ بات نہیں۔چند ہی ماہ ہوئے۔ہر آنرلیفٹینٹ گورنر کی طرف سے میرے نام ایک چٹھی آئی تھی۔جس میں لکھا تھا کہ ہر آنراحمدیہ کمیونٹی کی اس مخلصانہ وفاداری کا مزید یقین دلانے سے مسرور ہیں۔جس کا اس نے گورنمنٹ کے ساتھ لڑائی شروع ہونے سے اب تک عملی ثبوت دیا ہے۔ان باتوں کے ہوتے ہوئے گورنمنٹ پر مولوی محمد احسن صاحب کے اس لکھنے سے کیا اثر ہوسکتا ہے۔پھر گورنمنٹ کو یہ بھی معلوم ہے کہ کانپور کے معاملہ کے متعلق گورنمنٹ کے خلاف کس نے لکھا ہے۔اور اس حادثہ میں مرنے والوں کے ساتھ کس نے وفاداری کا اظہار کیا تھا۔اور ظفر علیخاں کی وہ نظم جو سلطان ٹرکی کی شان میں بعنوان خلیفتہ المسلمین لکھی گئی تھی۔پیام میں کس نے درج کرائی تھی۔ان باتوں کے ہوتے ہوئے کس طرح ہمارے متعلق وہ یہ لکھ سکتے ہیں کہ ہمارے خیالات سیاسی ہیں۔سوائے اس کے کہ کسی کی عقل ماری جائے۔یا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک انسان نیک کام کرتا ہے مگر اس کا انجام برا ہو جاتا ہے۔اسی طرح آخری عمر میں یہ کہنے والے کی رہنی بھی برائی کی طرف کھینچی گئی ہے۔ان کی یہ کوشش ایک لغو اور بے ہودہ ہے اور سوائے اس کے کہ ایسا لکھنے والے کی اپنی جہالت اور نادانی ثابت ہو۔اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ہاں دانا اور سمجھدار انسان اس سے عبرت حاصل کر سکتا ہے کہ ایک سمجھتا بُوجھتا انسان غصہ اور عداوت کی وجہ سے کیسا جاہل اور نادان بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت میں سے ہر ایک کو اپنی حفاظت میں رکھے۔اور اس کے فضل کے ماتحت ہمارا انجام مؤمنوں والا ہو۔اور ہماری موت اسلام پر ہو۔آمین ثم آمین۔الفضل ۱۷ فروری ۱۹۱۷ء)