خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 355

خطبات محمود جلد (5) ۳۵۵ کہ جن راستوں سے آئیں گے وہ عمیق ہو جائیں گے۔اب دیکھ لو کہ راستے کسی قدر عمیق ہو گئے ہیں۔بٹالہ سے قادیان تک جو سڑک آتی ہے اس پر پچھلے ہی سال گورنمنٹ نے دو ہزار روپیہ کی مٹی ڈلوائی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے فرمایا کہ تم میرے پاس امریکہ سے آئے ہو تمہارا مجھ سے کیا تعلق تھا جب تک کہ میں نے دعوئی نہ کیا تھا مجھے کون جانتا تھا مگر آج تم اتنی دور سے میرے پاس چل کر آئے ہو یہی میری صداقت کا نشان ہے۔مجھے خوب یاد ہے کہ جس وقت یہ گفتگو ہورہی تھی اور اس شخص نے کہا تھا کہ آپ مجھے اپنا کوئی معجزہ دکھا میں توسب لوگ حیران تھے کہ حضرت مسیح موعود اسکا کیا جواب دیں گے۔سب نے یہی خیال کیا تھا کہ آپ کوئی ایسی تقریر کریں گے گے جس میں معجزات کے متعلق بتائیں گے کہ کس طرح ظاہر ہوتے ہیں لیکن جونہی اس نے اپنی بات کو ختم کیا اور آپ کو انگریزی سے اردو ترجمہ کر کے سنائی گئی تو آپ نے فورا یہی جواب دیا۔یہ ایک چھوٹی سی بات تھی لیکن ہر ایک انسان کی عقل اس تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔اب بھی ہر ایک وہ انسان جو عقل سے کام نہیں لے گا کہے گا کہ یہ کیا مجزہ ہے۔مگر جن کی آنکھیں کھلی ہوئی اور عقل و سمجھ رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے اور حق کے قبول کرنے والے کے لئے یہی کافی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ میری صداقت میں لاکھوں نشانات دکھلائے گئے ہیں لیکن میں تو کہتا ہوں کہ اتنے نشانات دکھلائے گئے ہیں جو گنے بھی نہیں جاسکتے مگر پھر بھی بہت سے نادان ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اتنے تو مرزا صاحب کے الہام بھی نہیں پھر نشانات کس طرح اس قدر ہو گئے۔لیکن عقل اور سمجھ رکھنے والے انسان خوب جانتے ہیں کہ لاکھوں نشانات تو ایک الہام سے بھی ظاہر ہو سکتے ہیں ایک قصہ مشہور ہے کہتے ہیں کوئی شخص تھا اس نے اپنے بھتیجوں سے کہا کہ کل میں تم کو ایک ایسا لڈو کھلاؤں گا جو کئی لاکھ آدمیوں نے بنایا ہوگا۔دوسرے دن جب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو انہوں نے لڈو کے کھانے کی اُمید پر کچھ نہ کھایا اور چا کو کہا کہ وہ لڈو د یجئے۔اس نے ایک معمولی لڈو نکال کر انکے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ یہ ہے وہ لڑ وجس کا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا۔اس کو دیکھ کر وہ سخت حیران ہوئے کہ یہ کس طرح کئی لاکھ آدمیوں کا بنایا ہوا ہے۔چچا نے کہا کہ تم کاغذ اور قلم لے کر لکھنا شروع کرو میں تمہیں بتا تا ہوں کہ واقعہ میں اس لڈ و کوکئی لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے۔دیکھو ایک حلوائی نے اسے بنایا۔اس کے بنانے میں جو چیزیں استعمال ہوئی ہیں ان کو حلوائی نے کئی آدمیوں سے خریدا۔پھر ان میں سے ہر ایک چیز کو ہزاروں آدمیوں نے بنایا۔مثلا شکر کو ہی لے لو اس کی تیاری پر کتنے آدمیوں کی محنت خرچ ہوئی ہے کوئی اس کو ملنے والے ہیں کوئی رس نکالنے والے کوئی نیشکر کھیت سے لانے والے کوئی ہل جو تنے والے، پانی دینے والے۔پھر ہل میں جولو ہا اور لکڑی خرچ ہوئی اس کے بنانے والے اس طرح سب کا حساب لگاؤ تو کس قدر آدمی بنتے ہیں۔پھر شکر کے سوا اس میں آتا ہے اس کے تیار