خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 354

خطبات محمود جلد (5) ۳۵۴ لیا گیا اور دوسرا گرا تو اتنا گرا کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے بندہ کو سجدہ کرنے لگ گیا۔یہ عقل اور سمجھ کا ہی فرق ہے جس سے ایک بڑا اور ایک چھوٹا ہو گیا۔پس جو لوگ عقل سے کام لینے والے ہوتے ہیں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی بڑے بڑے فائدے حاصل کر لیتے ہیں اور جو عقل سے کام نہیں لیتے وہ بڑی بڑی باتوں سے بھی کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔جو لوگ خدا تعالیٰ کا قرب اور معرفت حاصل کرنے والے ہوتے ہیں وہ وہی ہوتے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔وہ ہر شے سے نصیحت حاصل کرتے اور ہر بات سے سبق لیتے ہیں۔ان کے لئے ایک گری ہوئی دیوار، ایک بیمار آدمی، ایک ٹو ٹاہو اکھمبا واعظ ہوتا ہے ان کے لئے ایک مکھی اور چیونٹی نصیحت کے لئے کافی ہوتی ہے لیکن جو ایسے نہیں ہوتے وہ ویران اور تباہ ملکوں میں چلتے اور و بازدہ اور ہلاک شدہ علاقوں میں سے گذرتے ہیں مگر ان کی آنکھیں اندھی اور ان کے کان بہرے اور ان کے دل مردہ ہوتے ہیں اس لئے کچھ محسوس نہیں کرتے عقلمند انسان ایک ایسے بیمار سے نصیحت حاصل کر لیتا ہے جس کی بیماری ابھی ابتدائی حالت میں ہوتی ہے اور اس وقت سبق لے لیتا ہے جبکہ بیمار سے ابھی موت بہت دُور ہوتی ہے مگر دوسرا انسان قبرستان میں کھڑا ہو کر بھی کچھ نہیں سمجھتا اور اس وقت بھی کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتا جبکہ موت اس کی آنکھ کے سامنے واقعہ ہو رہی ہو۔یہ فرق صرف عقل اور سمجھ ہی کی وجہ سے ہے۔سب انسان ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں مگر جب کچھ لوگ اس سے کام لیتے ہیں تو بہت بڑھ جاتے ہیں۔اور جو نہیں لیتے وہ بہت نیچے گر جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ امریکہ سے دو مرد اور ایک عورت آئی۔ایک مرد نے حضرت مسیح موعود سے آپ کے دعوئی کے متعلق گفتگو کی دوران گفتگو میں حضرت مسیح ناصری کا ذکر آ گیا اُس شخص نے کہا وہ تو خدا تھے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ان کے خدا ہونے کا تمہارے پاس کیا ثبوت ہے۔اُس نے کہا کہ انہوں نے معجزے دکھائے ہیں۔آپ نے فرمایا معجزے تو ہم بھی دکھلاتے ہیں۔اسنے کہا مجھے کوئی معجزہ دکھلا ؤ۔آپ نے فرمایا تم خود میرا معجزہ ہوں۔یہ سنکر وہ حیران سا ہو گیا اور کہنے لگا میں کس طرح معجزہ ہوں۔آپ نے فرمایا قادیان ایک بہت چھوٹا سا اور غیر معروف گاؤں تھا معمولی سے معمولی کھانے کی چیزیں بھی یہاں سے نہیں مل سکتی تھیں حتی کہ ایک روپیہ کا آٹا بھی نہیں مل سکتا تھا اور اگر کسی کوضرورت ہوتی تو گیہوں لے کر پسوا تا تھا۔اُس وقت مجھے خدا تعالیٰ نے خبر دی تھی کہ میں تیرے نام کو دنیا میں بلند کروں گا ور تمام دنیا میں تیری شہرت ہو جائے گی۔چاروں طرف سے لوگ تیرے پاس آئیں گے اور ان کی آسائش اور آرام کے سامان بھی یہیں آجا ئیں گے يَأْتُونَ مِن كُل فج عمیق اور ہر قسم اور ہر ملک کے لوگ تیرے پاس آئیں گے يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَج عميق لے اور اس قدر آئیں گے تذکره ص ۵۲