خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 350

خطبات محمود جلد (5) ۳۵۰ لیکن ہم نے تو اس وقت تک کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں دیکھا اگر ان کو کوئی ایسا شخص معلوم ہو جو حضرت مسیح موعود کی اس شرط کو پورا کرنے والا ہو تو اُسے پیش کریں لیکن وہ یاد رکھیں کہ یہ شرط زبان سے کہہ دینے سے پوری نہیں ہوتی کیونکہ اس کا تعلق عمل سے ہے۔ اب اگر کوئی ان کے پاس الگ بیٹھ کر یہ بھی کہہ دیتا ہو کہ میں احمدیوں کو مسلمان سمجھتا ہوں تو وہ اس وقت تک کسی شمار میں نہیں آ سکتا جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقررہ شرط کو پورا نہ کرلے۔ پس ہر ایک وہ شخص جو کہتا ہے کہ میں احمدیوں کو مسلمان سمجھتا ہوں وہ اس شرط پر بھی عمل کر کے دکھائے پھر ہم اس کو کافر نہیں کہیں گے لیکن ایسا آدمی ایک بھی نہیں ۔ جب ایک بھی نہیں تو ہم ان غیر احمدیوں کو کس طرح مسلمان کہہ دیں۔ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ غیر مبایعین ایک آدمی ہی اس قسم کا دکھا دیں جس میں یہ شرط پائی جاتی ہو اور پھر وہ غیر احمدی ہو۔ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ایسا شخص ضرور حضرت مسیح موعود کی جماعت میں داخل ہو جائے گا۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ تعلیم یافتہ گروہ ایسا نہیں جو ہم کو کافر کہتا ہو۔ اوّل تو ہم کہتے ہیں کہ چونکہ حضرت مسیح موعود نے جو شرط ان کو مسلمان کہنے کے لئے لگائی ہے اس کو پورا نہیں کرتے اس لئے ہم ان کو مسلمان نہیں کہہ سکتے ۔ دوسرے یہ بھی غلط ہے کہ انگریزی تعلیم یافتہ ہمیں کا فرنہیں کہتے ۔ آج ہی میں نے انگریزی اخبار سول میں ایک تار پڑھا ہے۔ مونگھیر میں ہمارا ایک مقدمہ ہے۔ پہلے عدالت ماتحت میں مقدمہ ہوا وہاں کی عدالت ۔ الت نے فیصلہ کیا کہ یہ احمدی ہیں تو مسلمان مگر غیر احمدیوں کی مسجد میں جماعت نہیں کراسکتے ۔ اس کے متعلق ہماری طرف سے ہائیکورٹ میں اپیل ہوئی ہے۔ غیر احمدیوں کی طرف سے مظہر الحق وکیل ہے جو انگریزی خوانوں کا بہت بڑا لیڈر ہے بڑا قدرحد اور بہت بڑا آزاد طبع مشہور ہے بلکہ اس قدر حد سے زیادہ آزاد ہے کہ جب لیگ کا جلسہ بمبئی میں ہو اتو مسلمانوں نے کہا کہ اس شخص کو کیوں صدر بنایا گیا ہے جس کے منہ پر نہ ڈاڑھی نہ مونچھ۔ یہ ہمارا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ اس کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس مقدمہ میں اس نے عدالت میں بیان کیا ہے کہ احمدی لوگ کافر ہیں اس لئے ان کو مسجدوں میں آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے ۔ اگر کوئی کہے کہ وکیل تو اپنے مؤکل کا مذہب پیش کیا کرتا ہے اس لئے مظہر الحق نے غیر احمدیوں کا مذہب پیش کیا ہے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ دونوں طرف کے وکیل مفت اس مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں ۔ پس اس کا اس جگہ آکر مفت کھڑا ہونا ہی ثابت کر دیتا ہے کہ وہ ہمیں کافر سمجھتا ہے۔ اور اگر اس نے دل سے ہمیں کا فرنہیں کہا اور بظاہر ہمارا نام کا فر رکھا ہے تا کہ اس کے مؤکل اس سے خوش ہوں تو یہ اس سے بھی بڑا ہے۔ اس نے بڑا زور اس دلیل پر دیا ہے کہ چونکہ یہ لوگ کافر ہیں اس لئے یہ ہماری مساجد میں آ کر نماز نہیں پڑھ سکتے اور ان کو ہماری مسجدوں میں آنے کا حق نہیں ۔ کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ