خطبات محمود (جلد 5) — Page 25
خطبات محمود جلد (5) ۲۵ نہ ہو تو بتا تا ہی نہیں۔کیونکہ ایسی صورت میں اس کا رویاء میں بتانا لغو اور فضول ٹھہرتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو بتانے سے خدا تعالیٰ کا منشاء اور ارادہ یہی ہے کہ اگر یہ لوگ تو بہ کریں۔صدقہ اور خیرات دیں اور دعائیں کریں تو ان سے یہ مصیبت ٹل جائے۔پس اتنے لوگوں کو رؤیاء میں بتایا جانا جن کی تعداد میں پچیس کے قریب ہے اور بعضوں کو بار بار بتایا جانا ثابت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ اگر یہ لوگ اصلاح کر لیں تو ان سے مل جائے۔ہم تو چاہتے ہیں کہ ساری دنیا سے ہی یہ مصیبت ٹل جائے مگر کم از کم وہ لوگ جو اپنے ہیں ان کے متعلق ہمیں خاص طور پر فکر ہے۔اس لئے ہماری جماعت کے وہ لوگ جو یہاں کے رہنے والے ہیں اور وہ جو باہر کے رہنے والے ہیں خاص طور پر ان دنوں میں دعاؤں میں لگ جائیں۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ بشارت دے اور خود بتادے کہ اب وہ مصیبت کے ایا م مل گئے ہیں۔جن لوگوں کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ صدقہ دیں۔اور سب لوگ دُعاؤں میں مشغول رہیں اور اپنی اصلاح کی طرف خاص توجہ رکھیں۔اللہ تعالیٰ یہاں کے اور باہر کے ان تمام لوگوں کو جو ہماری جماعت میں داخل ہیں اور جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو مانا ہے۔ہر ایک قسم کی بلاؤں اور مصیبتوں سے بچائے اور اپنی حفاظت میں رکھے۔الفضل ۸ فروری ۱۹۱۷ء)