خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 24

خطبات محمود جلد (5) ۲۴ کیوں آرہی ہیں ہم کوئی نبی نہیں کہ ہماری نبوت کے ثبوت کے لئے خدا بتا رہا ہے بلکہ ان کی یہی غرض ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ ہوشیار ہو جائیں اور اس آنے والے وقت سے پہلے اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرلیں اور ایسے تضرع سے دعائیں مانگیں۔صدقہ و خیرات کریں کہ خدا تعالیٰ ان مشکلات کو ٹلا دے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ گورنمنٹیں بھی جب کسی بات کو نا پسند کرتی ہیں۔اور وہ ایسے لوگوں کی طرف سے سرزد ہوتی ہیں جن پر وہ خوش ہوتی ہیں۔تو انہیں پہلے یہ اطلاع دے دیتی ہیں کہ یہ بات تم نے اچھی نہیں کی۔آئندہ احتیاط کرنا۔تو خدا تعالیٰ بھی جس قوم پر خوش ہوتا ہے اس کو قبل از وقت یہ اطلاع دے دیتا ہے کہ ایک مصیبت آنے والی ہے اس سے بچنے کا سامان کر لو۔یعنی صدقہ و خیرات دو۔دعائیں کرو۔اور اپنے حالات میں تبدیلی پیدا کرو تا کہ وہ ٹل جائے۔پس آپ لوگوں کو چاہیے کہ اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔بعض لوگوں کے متعلق تو مجھے خاص طور پر بھی دکھایا گیا ہے۔میں نے دو آدمیوں کے متعلق جو ہماری ہی جماعت کے ہیں دیکھا ہے کہ وہ دہریہ ہو گئے ہیں۔لیکن اکثر خوا ہیں عام طور پر ہیں۔بعضوں نے زلزلہ دیکھا ہے۔بعضوں نے بارش کو دیکھا ہے بعضوں نے آگ اور اولوں کو دیکھا ہے۔بعضوں نے چوروں اور ڈاکوؤں کو دیکھا ہے۔بعضوں نے طاعون کے رنگ میں دیکھا ہے۔ایک نے آسمان سے آگ کا برسنا دیکھا ہے۔غرض مختلف لوگوں نے مختلف رنگ کی خواہیں دیکھی ہیں اور خدا تعالیٰ نے کئی طریق پر مطلع کیا ہے پس آپ لوگ اس وقت کے آنے سے پہلے اپنے آپ کو اس قابل بنا لیں کہ خدا تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔اس وقت یہ معلوم نہیں کہ وہ مصیبت کیا ہے قحط ہے یا زلزلہ ہے یا طاعون ہے یا کوئی اور قسم کا امن و امان کا خطرہ ہے مگر جو کچھ ہے خدا تعالیٰ نے اپنا فضل اور رحم کر کے اس کے ظاہر ہونے سے پہلے رویاء میں ہماری جماعت کے بعض لوگوں کو بتا دیا ہے اس لئے سب جماعت کو ہوشیار ہو جانا چاہیئے۔دیکھو اگر کسی سوئے ہوئے آدمی کے گھر چور پڑتے ہیں تو سب کچھ لے جاتے ہیں لیکن جنہیں پہلے اطلاع ہوتی ہے اور وہ جاگتے ہوتے ہیں وہ اپنا مال بچالیتے ہیں۔چوروں کے آنے سے پہلے کسی اور جگہ رکھ دیتے ہیں یا اور کوئی حفاظت کے لئے سامان کر لیتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ جو کسی آنیوالی مصیبت کے متعلق رویاء میں بتاتا ہے وہ ایسی ہی ہوتی ہے جو اس قوم سے ملنے والی ہوتی ہے اور اگر ٹلنے والی