خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 338

خطبات محمود جلد (5) ۳۳۸ کوئی پڑھ بھی نہ سکتا لیکن اب خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کو ایسے مختصر طور پر اُتارا ہے کہ ہر ایک اسے پڑھ سکتا اور اپنی لیاقت اور قابلیت کے مطابق اسے سمجھ سکتا ہے اور اس کے معانی سے آگاہ ہو سکتا ہے اب جس قدر کوئی قرآن کریم کے مطالب اور معانی پر آگاہ ہو سکتا ہے اس کے لئے وہی قرآن ہے اور جوں جوں کسی میں تقوی وطہارت بڑھتا جاتا ہے اسی قدر قرآن کریم کے زیادہ معارف اس پر گھلتے جاتے ہیں اور اس کے لئے یہی چھوٹا سا قرآن کریم بہت وسیع ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تصانیف میں بعض جگہ لکھا ہے کہ قرآن کریم کی آیات کے معنی مجھ پر اس قدر کھولے جاتے ہیں کہ میں الفاظ نہیں پاتا کہ ان کو ادا کرسکوں۔یہ ہے دوسری وجہ متشابہات کے رکھنے کی۔پس کیا ہم متشابہات کو بُرا کہہ سکتے ہیں۔ہرگز نہیں کیونکہ اگر یہ برائی اور نقص ہوتا تو خدا تعالیٰ اس کو قرآن کریم میں کیوں رکھتا۔پھر خدا تعالیٰ نے تو اس کو سورہ زمر میں اپنے فضلوں میں سے ایک فضل قرار دیا ہے اور دوسرے مذاہب پر ایک محبت قائم کرتے ہوئے قرآن کریم کی یہ ایک خوبی جتلائی ہے کہ كِتَابًا مُتَشَابِهَا اور تشبیہات قرآن کریم میں کثرت سے ہیں اور یہ اس کی خوبی ہے لیکن اگر کوئی متشابہات کو نقص قرار دیتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ وہ قرآن کریم کو ناقص قرار دے رہا ہے مگر قرآن کریم ناقص نہیں ہوسکتا پس ثابت ہوا کہ ینقص نہیں بلکہ خوبی ہے۔متشابہات رکھنے کی اور بھی بہت سی حکمتیں ہیں لیکن اوّل تو آج کچھ دیر ہوگئی ہے دوسرے اس وقت مجھے ایک اور مضمون بیان کرنا ہے پھر کبھی خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو اس کے متعلق بیان کروں گا۔یہ آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ جن کے دلوں میں کبھی ہوتی ہے وہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔میں نے ابھی بتایا ہے کہ متشابہات کے الفاظ ہی ایسے رکھے جاتے ہیں کہ ان کے ذریعہ کثیر معانی پیدا ہوسکیں۔پس جب ایسا ہو گا تو ایسے معنی بھی کئے جاسکیں گے جو کلام کرنے والے کی منشاء کے خلاف ہوں گے اس بات کے ازالہ کے لئے خدا تعالیٰ نے محکمات رکھی ہیں لیکن وہ لوگ جن کے دلوں میں گند اور نا پا کی ہوتی ہے وہ بالکل متشابہات کی طرف چلے جاتے ہیں اور محکمات کو حج نہیں مقرر کرتے اس لئے ٹھوکر کھا کر خود بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اس میں نہ تو ( نعوذ باللہ ) خدا تعالیٰ کا قصور ہے اور نہ ہی شریعت کا الزمر : ۲۴