خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 339

خطبات محمود جلد (5) ۳۳۹ اور نہ ہی ان الفاظ کا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ٹھوکر سے بچنے اور سید ھے راستہ پر چلنے کے لئے محکمات کو رکھا ہوا ہے ان کے مطابق اگر کسی متشابہ آیت کے بیسیوں نہیں سینکڑوں اور ہزاروں معنی کئے جائیں تو جائز اور بالکل درست ہیں لیکن ان کے خلاف اگر ایک معنی بھی کئے جائیں تو وہ بھی درست نہیں ہو سکتے۔اگر کسی کو کسی متشابہ آیت کے وہ معنی کرنے نہیں آتے جو محکمات کے مطابق ہوں تو وہ نہ کرے لیکن یہ اس کے لئے ہرگز جائز اور درست نہیں کہ ان کے خلاف معنی کر دے جو کوئی ایسا کرے گا وہ ایک بہت بڑی غلطی کا مرتکب ہوگا اور اس طرح سیدھے راستہ سے بہت دُور جا پڑے گا۔ہمارے موجودہ اختلاف میں بھی اس بات سے بعض لوگوں کو دھو کہ لگا ہے۔بعض اوقات ایک انسان کسی معمولی سی بات پر اڑ جاتا ہے اور پھر ضد اور ہٹ سے کہیں کا کہیں نکل جاتا ہے ایسی حالت میں اس کے لئے کوئی بات بھی کارگر نہیں ہوتی۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو کہا جائے کہ تم نے یہ بات قرآن کریم کے خلاف کی ہے تو وہ غصہ کی حالت میں کہہ دیتا ہے کہ جاؤ قرآن کو گھر رکھو۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جار ہے تھے کہ ایک عورت قبر پر بیٹھی رو رہی تھی آپ نے اسے فرمایا صبر کرو اس نے کہا اگر تیرا بچہ مرتاتو تجھے پتہ لگتا کہ صبر کس طرح ہو سکتا ہے۔اس نادان کو کیا معلوم تھا کہ جتنے بچے آپ کے فوت ہوئے ہیں اگر اتنے اس کے فوت ہوتے تو غم سے مر ہی جاتی۔تو جب کوئی شخص غصہ اور ضد میں ہو تو ان باتوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا جن کو وہ صحیح اور درست مانتا ہے اور ان کے خلاف کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتا ہے۔کسی پٹھان کی نسبت مشہور ہے کہ جب فقہ اور حدیث کے جھگڑے شروع ہوئے تو یہاں تک بڑھے کہ اس نے کسی حدیث میں پڑھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھتے ہوئے دروازہ کھولا یا بچے کو گود سے اتارا تو اس نے کہہ دیا کہ اومحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نماز ٹوٹ گیا۔اس طرح اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ہتک کرنے کی پرواہ نہ کی۔پھر بعض نے اسی ضد میں امام بخاری کی بڑی سخت ہتک کی ہے۔تو ضد میں انسان کسی بات کی پرواہ نہیں کرتا۔اس وقت کچھ لوگ ہمارے مقابلہ میں بھی ضد اور ہٹ دھرمی کو لے کر اُٹھے ہیں اور یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کچھ وقعت نہیں رکھتے۔حتی کہ ان میں سے ایک نے کہہ دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ضعیف حدیث سے بھی کمتر ہیں۔ضعیف حدیث کے کیا معنی ہیں؟ یہی کہ ایسے شخص کی روایت سے پہنچی ہوئی حدیث جو جھوٹا ہو یا 'جھوٹ کا عادی تو نہ ہو لیکن معتبر بھی نہ ہو یا اس کا حافظہ ایسا ہو کہ کسی بات کو صحیح طور پر یاد نہ رکھ سکتا ہو۔یا ایسا شخص جس نے جان بوجھ کر کوئی ٹھوٹی حدیث بنائی ہو۔ایسے راویوں کی بیان کی ہوئی ے بخاری کتاب الجنائز باب زيارة القبور