خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 335

خطبات محمود جلد (5) ۳۳۵ طب کا دور دورہ ہو الیکن جب ڈاکٹری ظاہر ہوئی تو اسے جہالت کہہ دیا گیا۔اب ڈاکٹری کے بھی کئی دور رہے ہیں اور چونکہ موجودہ زمانہ میں ہر ایک قسم کے علوم بہت ترقی کر گئے ہیں اس لئے ڈاکٹری کے دور بہت جلدی جلدی بدلتے رہتے ہیں۔یوں تو کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اب چونکہ علوم میں بہت ترقی ہو گئی ہے اس لئے اب کسی بات کے متعلق جو رائے قائم کی جائے اسے پہلے کی نسبت بہت مضبوط اور پختہ ہونا چاہیئے کیونکہ وہ زیادہ تجربہ اور بہت تحقیق کے بعد قائم ہوگی۔لیکن حالت اس کے بالکل بر خلاف ہے۔اگر پہلے کسی بات میں ہزار سال کے بعد تبدیلی واقع ہوتی تھی تو آج سال دو سال کے اندر ہی تبدیلی ہو جاتی ہے اس لئے آج جو طبی رائے ہوتی ہے وہ دو سال کے بعد بدل جاتی ہے۔اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس رائے سے پہلے جو کچھ رائے تھی وہ علم ہی نہیں تھا۔ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بھی علم تھا لیکن اب اس سے بہتر علم نکل آیا ہے۔تو انسانی جسم کے متعلق جو ایک چھوٹی چیز ہے جس کے متعلق پہلے لوگ بھی تحقیقات میں لگے رہے ہیں اور اب بھی لگے ہوئے ہیں لیکن یہ کمل ہونے میں نہیں آتی۔انسان کا جسم بڑے سے بڑا اگر سات گز کا بھی سمجھ لیا جائے حالانکہ موجودہ زمانہ میں اس قد کا کوئی انسان نظر نہیں آتا پھر بھی کیا ہے ایک بہت ہی محدود شے ہے مگر خدا تعالیٰ نے اس کے ساتھ اس قدر علوم کو وابستہ کر دیا ہے کہ انسان دیکھ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔انسانی جسم کے صرف اسی شعبہ کے متعلق کیوں اس قدر علوم نکل رہے ہیں اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی ہر ایک پیدائش ذو الوجوہ ہوتی ہے اس کا تعلق صرف ایک بات سے نہیں بلکہ بیبیوں اور ہزاروں سے ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بیماریوں کے علاج کے لئے بعض تو دوائیوں کی طرف چلے گئے ہیں بعضوں نے یہ ایجاد کیا ہے کہ جس عضو میں بیماری ہو اس کو کاٹ کر نکال دینا چاہئیے۔بعض نے یہ کہا کہ بیمار عضو کو کاٹنا نہیں چاہئیے بلکہ اس کو اچھا کر نیکی کوشش کرنا چاہیئے۔بعضوں نے ٹیکے ایجاد کئے۔پھر دوائیوں کی طرف جانے والوں میں سے کچھ ایسے بھی نکل آئے جنہوں نے کہا کہ بیمار کو دوائیوں کے قدمے بھر بھر دینے سے فائدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس طرح دوائی کا اثر پھیلا ہوا ہونے کی وجہ سے بہت کم اور بہت دیر میں ہوتا ہے اس لئے دوائیوں کا اثر نکال کر بیمار کو دینا چاہئیے۔تو یہ نئے نئے علاج نکلتے آتے ہیں اور جس قدر زیادہ غور و خوض کیا جاتا ہے اسی قدر اس فن میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔پھر اب تو بعض نے غسل سے صحت حاصل ہونے کا طریق نکالا ہے اور بعض نے رنگوں سے یہ کام لیا ہے۔بعضوں نے مالشوں سے علاج کرنا شروع کر دیا ہے۔بعضوں نے دبانے اور بھاپ کے علاج نکالے ہیں۔یہ علاج پہلے کہاں تھے۔لیکن انہی پر بس نہیں ہو گئی آئے دن نئی نئی باتیں نکلتی رہتی ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو چیز خدا نے پیدا کی ہے اس میں اس قدر علوم بھرے پڑے ہیں کہ ان کا احاطہ آج تک نہ کوئی انسان کر سکا اور نہ کبھی کر سکے گا۔یہی حالت خدا تعالیٰ کے کلام کی بھی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کے فعل