خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 288

خطبات محمود جلد (5) ۲۸۸ مسیح موعود کا درجہ بڑھاتے ہیں کہ ہم دشمن کو تنگ کریں اور چڑا ئیں اور نہ ہی حضرت صاحب کے اصل درجہ کو چھپاتے ہیں کہ غیر احمدی ہمارے دشمن ہیں۔حق کہنا ہر ایک مومن کا فرض ہے اور ہم بھی حق ہی کہتے ہیں خواہ جان بھی چلی جائے۔ہم تو حق کہنے سے کبھی نہیں ڈرتے اگر کوئی ڈرتا ہے تو حق کو چھپائے رکھے۔ہمارا یقین اور ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کے نبی تھے ہاں ایسے نبی جو کوئی شریعت نہیں لائے تھے اور نہ بلا واسطہ نبی ہوئے تھے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل نبی ہوئے تھے اور آپ ظلی نبی تھے مگر اس لحاظ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات آپ نے اخذ کر لئے تھے نہ اس لحاظ سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کے سامنے آنے سے کوئی ظلمت پیدا ہوگئی تھی اور آپ وہ ظلمت تھے۔اسی تشریح کے ساتھ ہم آپکو نبی مانتے ہیں۔باقی رہا یہ کہ اس سے لوگوں کو دھو کہ لگ سکتا ہے اور انہیں ڈکشنری پاس رکھنی پڑے گی اس لئے اس کو چھوڑ دینا چاہیئے۔اگر اس لحاظ سے اس کو چھوڑ دیا جائے تو قرآن کریم کے کئی احکام ہیں جن کو چھوڑنا پڑے گا۔مثلاً ملائکہ کو مشرک لوگ خدا کی بیٹیاں کہتے تھے ا۔اب جو شخص یہ کہے گا کہ ہم ملائکہ کو مانتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ مشرکین اس سے یہ سمجھیں کہ یہ بھی ہماری طرح ہی ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں سمجھتا ہے اس لئے چاہیئے کہ وہ ملائکہ سے ہی انکار کر دے تا کہ ان کو دھوکہ نہ لگے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں ماننا چاہیئے کیونکہ وہ لوگ رسول اس کو سمجھتے تھے کہ جس کے پاس بہت سے خزانے ہوں ،غیب جاننے والا ہو، آسمان پر چڑھنے والا ہو۔۔چونکہ رسول کے لفظ سے ان کو اس قسم کا دھو کہ لگتا تھا اس لئے چاہئے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو رسول نہ کہتے اور نہ ہی کوئی مسلمان آپ کو رسول کہتا۔لیکن یہ بات ہی فضول ہے۔کسی کو اگر اس سے دھو کہ لگتا ہے تو یہ ہمارا قصور نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی سمجھ کا قصور ہے۔ہمارے متعلق یہ کہنا کہ یہ مرزا صاحب کو نبی کہ کر پھر اس کی تشریح کرتے ہیں۔اس تشریح کو کون یاد رکھے یہ بھی نادانی کی بات ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اگر تشریح کرنا کوئی بری بات ہے تو پھر خدا تعالیٰ نبی کہ کر پھر کیوں تشریح کرتا ہے۔جب خدا تعالیٰ نبی کی تشریح کرتا ہے تو ہمارا فعل اس کے مطابق ہی ہے نہ کہ خلاف۔خدا تعالیٰ رسول کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ علم غیب نہیں جانتا۔اپنی طاقت سے کوئی نشان نہیں دکھا سکتا اور یہ نہیں کہ وہ وفات نہ پائے اور یہ بھی نہیں کہ کھانا نہ کھاتا ہو بلکہ رسول ہوتے ہوئے اس میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں۔اب کوئی کہے کہ خدا تعالیٰ کو رسول کا لفظ کہہ کر جو اس قدر تشریح کرنے کی ضرورت پڑی ہے اس لئے چاہیئے تھا کہ اس کو چھوڑ ہی دیتا اور کوئی ایسا لفظ کہتا جس کے متعلق اسے تشریح نہ کرنی پڑتی۔مگر کوئی عظمند نہیں کہہ سکتا۔اور باوجود اس کے کہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ رسول کہنے سے کفار اور مشرکین کو دھو کہ الزخرف ۲۰ بنی اسرائیل ۹۴