خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 265

خطبات محمود جلد (5) ۲۶۵ جگہ قابض ہو جائے گی ۔ اس لئے کیوں نہ ہم ہی اس کو مٹا کر اس جگہ پر قبضہ کر لیں ۔جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ جنگل میں اگر لاوارث بکری مل جائے تو اسے کیا کرنا چاہئیے ۔ آپ نے فرمایا۔ تم اس پر قبضہ کر لو۔ اگر تم قبضہ نہ کرو گے تو اسے بھیڑیا کھا جائے گالے۔ یہی حال قوموں کا ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم مٹنے کے بالکل قریب ہو جاتی ہے تو کوئی دوسری قوم اُٹھ کر اس کا نام و پتہ مٹا کر اپنا نام اس کی جگہ لکھ دیتی ہے کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو کوئی اور قوم ہوگی جو ایسا کرلے گی ۔ تو سب سے زیادہ خطرناک حملہ جو کسی قوم پر ہوتا ہے وہ اس کے اپنے اندرونی عیوب اور کمزوریاں ہی ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کی تباہی اور ہلاکت کی یہی وجہ ہوئی ہے۔ یہ نہیں کہ دشمن ان سے اور یہ طاقتور تھے۔ اس لئے انہوں نے غلبہ پالیا۔ بلکہ اصل باعث یہی ہے کہ مسلمانوں کی قوم کو اندر ہی اندر نے غلبہ گھن لگ گیا تھا اور وہ ایک کھوکھلے تنے کی طرح ہو گئی تھی ۔ ایسی حالت میں جو بہت چھوٹے اور ذلیل گیا تھا من لگ گیا تھا اور وہ ایک کلے سے کی طرح ہوئی تھی۔ حالت میں جو بہت چھوٹے اور ذیل دشمن تھے وہ بھی آنکھیں دکھانے لگ گئے ۔ مسلمانوں میں ایسی بدیاں اور کمزوریاں پیدا ہوگئیں کہ جن کے ذریعے دشمن نے محسوس کر لیا کہ یہ آج بھی گرے اور کل بھی ۔ اس لئے انہوں نے حملے کر کر کے ان سے ملک چھیننے شروع کر دیئے ۔ بظاہر تو مسلمانوں کے ممالک چھینے جانے کا باعث دشمنوں کے حملے تھے۔ لیکن دراصل اس کا سبب وہ اندرونی گھن تھا۔ جس نے انہیں کسی کام کا نہ رہنے دیا تھا۔ چنانچہ ان گھنوں میں سے ایک گھن ایفائے عہد کا معدوم اور مفقود ہو جانا تھا۔ اس سے غدر اور بغاوت کی طرف ان کی بڑی توجہ بڑھ گئی اور خیانت اور بد عہدی کی طرف ان کے دل مائل ہو گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا اعتبار اُٹھ گیا۔ اور ان میں کمزوری پیدا ہو گئی۔ کیونکہ اسطرح کرنے سے ان کا آپس میں بھی ایک دوسرے پر اعتبار نہ رہا۔ جب کسی نے ایک سے دھو کہ اور بد عہدی کی تو وہ دوسرے تیسرے اور چوتھے سے بھی ضرور کر سکتا ہے اور جو ایک کے ساتھ دھو کہ کرنے سے بچتا ہے وہ دوسرے تیرے اور چوتھے سے بھی بچتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ ے بخاری کتاب الادب باب ما يجوز من الغضب والشدة -