خطبات محمود (جلد 5) — Page 251
۲۵۱ 29 خطبات محمود جلد (5) ہر گل کے ساتھ خار ہوتا ہے۔(فرموده ۸ ستمبر ۱۹۱۶ء) تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- کہ سورۃ فاتحہ روزانہ بلکہ دن کے ہر تغیر کے وقت ہمیں بتاتی ہے اور اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہر انعام کے ساتھ کچھ مشکلات بھی لگی ہوتی ہیں اور کچھ خطرہ بھی ہوتا ہے اور جس پر انعام نہیں ہوا ہوتا۔وہ ذمہ داریوں سے بھی بچا ہوتا ہے۔ایک جنگل میں رہنے والا انسان جس کو حکومت کے معاملات میں کچھ دخل نہیں اس سے کسی قسم کی پرسش بھی نہیں۔لیکن ایک وزیر جہاں بادشاہ کا مقرب اور منظور نظر ہے۔وہاں اس کی ذمہ واریاں بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں۔اور جس طرح اس کے لئے یہ خوشی اور فخر کرنے کا مقام ہوتا ہے کہ اسے عزت حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح اس کے لئے یہ ڈرنے اور خوف کرنے کا بھی مقام ہوتا ہے کہ مجھے سے کوئی ایسی حرکت نہ ہو جائے کہ میں اپنے آقا کا معتوب ہو جاؤں۔تو سورہ فاتحہ اس طرف متوجہ کرتی رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے انعام مانگو۔لیکن ساتھ ہی ان انعاموں کے ملنے پر یہ بھی خیال رکھو کہ ایسے افعال میں نہ پڑ جاؤ کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر ناراض کر بیٹھو۔دیکھو جتنے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے انعامات ہوتے ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تکبر اور گھمنڈ میں آ جاتے ہیں۔چنانچہ امراء میں جس قدر تکبر۔گھمنڈ۔عداوت بغض۔کینہ۔بیوفائی۔بدعہدی وغیرہ وغیرہ افعال شنیعہ پائے جاتے ہیں۔غرباء میں ان کی نسبت بہت کم ہوتے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ ان پر جو مصائب اور تکالیف آتی رہتی ہیں وہ انہیں خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کئے رکھتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ انعام ایک اچھی چیز ہے۔اس سے بہتر کیا ہو گا۔پھر خــدا تعالی کا انعام۔لیکن جہاں انعام کی جستجو ہو وہاں یہ خیال بھی رکھنا چاہئیے کہ انعام