خطبات محمود (جلد 5) — Page 230
خطبات محمود جلد (5) مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ۲۳۰ خدا کا کلام مجھے فرماتا ہے کہ کئی حوادث ظاہر ہوں گے اور کئی آفتیں زمین پر اتریں گی۔ کچھ تو ان میں سے میری زندگی میں ظہور میں آئیں گی اور کچھ میرے بعد ظہور میں آئیں گی۔ پس جس طرح صحابہ احزاب کو دیکھ کر کہہ اُٹھے تھے کہ هذا ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ اسی طرح انہیں کہنا چاہیے تھا کہ یہ جو ابتلاء آ رہے ہیں یہ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود نے یہ بھی پہلے سے ہی بتا دیا تھا۔ کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے اور کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے۔“ اس لئے جس طرح اس لشکر عظیم کو دیکھ کر صحابہ کے ایمان بجائے متزلزل ہونے کے اور زیادہ بڑھ گئے تھے اسی طرح وہ لوگ جو ہم سے جدا ہوئے ۔ ان کو د سے جدا ہوئے۔ ان کو دیکھ کر ان کے ایمان بڑھنے چاہئیے تھے اور وہ یہ کہہ اٹھتے کہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا یہ ایک اور نشان ظاہر ہوا ہے کیونکہ آپ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس طرح ہوگا۔ کران نادان ہیں وہ لوگ جو اس قسم کے ابتلاؤں کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم پر بہت بڑا بوجھ پڑ گیا ہے اور ہمیں بڑے چندے دینے پڑتے ہیں ۔ انہیں تو چاہئیے کہ ایسے وقت میں پہلے سے بھی زیادہ ہمت اور کوشش سے کام لیں ۔ کیونکہ جو زیادہ مشکلات کے دن ہوتے ہیں ان میں زیادہ ہمت سے کام کرنا پڑتا ہے۔ دیکھو جب کوئی زیادہ بیمار ہو جاتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ دوا کھانا ہی چھوڑ دیتا یا احتیاط کرنا ہی ترک کر دیتا ہے۔ بلکہ اس وقت خاص طور پر وہ دوا استعمال کرتا اور خاص احتیاط کرتا ہے۔ دنیا کے تمام معاملات میں یہی دیکھا جاتا ہے۔ پس جب بڑی مشکلات کے وقت ہمت بڑھادی جاتی ہے۔ اور زیادہ بیماری کے وقت علاج پر خاص زور دیا جاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ان دینی مشکلات کے وقت زیادہ ہمت سے کام نہ لیا جائے اور اس سے بڑھ کر طاقت اور جرات نہ دکھائی جائے جو پہلے دکھاتے تھے۔ اگر بعض لوگوں کا ارتداد یا بعض لوگوں کی سستی بیت المال اور الوصيت ص ۵