خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 231

خطبات محمود جلد (5) ۲۳۱ دیگر صیغہ جات میں آمدنی کی کمی کا باعث ہوئی ہے تو چاہئیے تمہاری ہمت اور بھی زیادہ بڑھ جائے کہ اور بوجھ آپڑا ہے۔اس لئے پہلے کی نسبت حو صلے اور دل اور وسیع کرنے چاہئیں نہ یہ کریں کہ جس وقت مشکل زیادہ آ پڑے تو ہمت کم کر دیں۔یہی وقت ایمان کو تازہ کرنے کا ہے۔کیونکہ جب انسان دیکھتا ہے کہ باوجود ہر قسم کے سامان کے مخالف ہونے کے پھر خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہمارے ساتھ ہے تو اس کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ کیا چیز تھی جس نے صحابہ کرام کے ایمان کو ایسا مضبوط کر دیا تھا کہ کوئی بڑی سے بڑی مصیبت اور تکلیف انہیں متزلزل نہیں کر سکتی تھی۔یہی کہ وہ دیکھتے تھے کہ ہر مصیبت اور ہر مشکل جو ہمیں پیش آتی ہے اس میں خدا کی نصرت زیادہ سے زیادہ ہی دیکھی جاتی ہے۔یہی باعث تھا کہ جب احزاب میں لشکر جمع ہو کر آیا تو انہوں نے سمجھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کا ایک حصہ تو پورا ہو گیا ہے اب دوسرا حصہ بھی پورا ہوگا۔جو یہ ہے کہ لشکر نا کام اور نامراد ہو کر بھاگ جائے گا۔گو یا دشمن کا آنا بھی ان کے لئے ایمان کی زیادتی کا موجب ہوا اور جانا بھی۔اور ہر حالت میں ان کے لئے ایمان کی زیادتی تھی یہی حال خدا کے پیارے بندوں کا ہوتا ہے۔یہاں رہنے والے لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ مولوی عبد الکریم صاحب اور مبارک احمد کی بیماری میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علاج معالجہ کا کس قدر خیال ہوتا تھا۔دیکھنے والوں کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ اپنے سلسلہ کی ترقی انہی کی زندگی پر سمجھتے تھے۔ان ایام میں سوائے اس کے اور کوئی ذکر ہی نہ ہوتا تھا کہ کس طرح علاج ہو اور کیا علاج کیا جائے لیکن ان کی وفات کے وقت کیا ہوا یہی کہ یکلخت آپ کی ایسی حالت بدلی کہ حیرت ہی ہو گئی۔یا تو اتنا جوش کہ صبح سے لے کر شام تک انہی کے علاج معالجہ کا ذکر یا آپ اس بات پر ہنس ہنسکر اور نہایت بشاش چہرہ سے تقریر فرما رہے ہیں کہ ان کی وفات کے متعلق خدا تعالیٰ نے پہلے سے ہی بتا دیا ہوا تھا۔مبارک احمد کی وفات ہوئی تو بعض اشخاص کو اس سے گھبراہٹ ہوئی مجھے ب یاد ہے کہ جب مبارک کا دم نکلا تو حضرت مولوی نور الدین ،خلیفہ