خطبات محمود (جلد 5) — Page 9
خطبات محمود جلد (5) ۹ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا کہتا ہے قرآن شریف کو جھوٹا مانتا ہے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا نہ صرف فروع میں ہی فرق ہے بلکہ اصول تک میں بھی اختلاف ہے لیکن وہ کا فرنہیں تو کیا وجہ ہے کہ غیر احمدی جو نماز پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں زکوۃ دیتے ہیں حج کرتے ہیں اور اسلام کے اصولوں کے منکر نہیں ہیں۔ان کو تم کا فرقرار دیتے ہو۔میرے نزدیک اس کا سوال کم سمجھی کا نتیجہ ہے قرآن مجید صاف طور پر اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو کا فرقرار دیتا ہے جیسا کہ میں نے ابھی ایک آیت سے بتایا ہے ہاں ان میں امتیاز کرنے کے لئے انکے دو نام رکھ دیئے ہیں۔یعنی ایک اہل کتاب اور دوسرے مشرک۔پس کا فر ہونے کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی تخصیص نہیں جیسے کافر اہل کتاب ہیں ویسے ہی مشرک بھی ہیں۔البتہ کا فر ہونے کی حالت میں ہی ان کی دو قسمیں کر دی گئی ہیں۔ہم بھی اسی لحاظ سے غیر احمدیوں کو مشرک کا فرنہیں کہتے بلکہ اہلِ کتاب کافر کہتے ہیں اور جو تخصیص قرآن شریف نے مشرکوں کے مقابلہ میں اہلِ کتاب سے رکھی ہے وہی ہم غیر احمدیوں سے رکھتے ہیں اور ہم تو خواہ کسی کتاب کے الہامی ماننے والے ہوں انہیں بھی اہلِ کتاب ہی کہتے ہیں۔غرض کا فرتو اہل کتاب اور مشرک دونوں ہوتے ہیں لیکن امتیاز کے لئے ان کی الگ الگ شاخیں قرار دے دی گئی ہیں ایک اہل کتاب کافر اور دوسرے مشرک کا فر۔اور ان دونوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں فرق رکھا گیا ہے۔جو یہ ہے کہ اہل کتاب کی نسبت خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے أُحِلَّ لَكُمُ الطيبتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَّكُمْ - وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ۔ان کا تیار کیا ہو اطعام تمہارے واسطے کھانا جائز ہے اور تمہارا پکا ہوا کھانا ان کے لئے اس سے زیادہ یہ کہ اہل کتاب کا ذبیحہ کھانا بھی جائز ہے۔اسی طرح اگر کوئی اہل کتاب اپنی لڑکی کسی مسلمان کو بیاہ دینے کے لئے تیار ہو تو اس سے نکاح کر لینا جائز ہے لیکن ایک مشرک جس کی یہ تعریف ہے کہ وہ کسی الہامی کتاب کے ماننے کا دعویدار نہ ہو اس کے متعلق یہ باتیں جائز نہیں ہیں یعنی نہ تو ان کے کھانے کوئی مسلمان کھا سکتا ہے اور نہ اُن کی لڑکی سے شادی کر سکتا ہے پس یہ فرق ہے اہلِ کتاب اور مشرکین میں۔اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ یہ فرق کیوں رکھا گیا ہے کیونکہ اب ایک اور نیا گروہ اہل کتاب کا نکلا ہے یعنی غیر احمدی۔اس لئے ان کی طرف سے یہ سوال ہوتا ہے