خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 166

خطبات محمود جلد (5) ۱۶۶ اور تمہاری بیجہتی کے لئے اسباب مہیا کرے اور تم غافل بیٹھے رہو۔پس خوب سمجھ لو کہ اگر تم آہ و بکا اور عجز و انکسار میں سستی کرو گے تو خدا کو تمہاری کیا پرواہ ہے انسان خدا کا محتاج ہے نہ کہ خدا انسان کا۔انسان کو خدا کی ضرورت ہے نہ کہ خدا کو انسان کی۔ہم فقیر ہیں اور خدا غنی اس لئے ہمیں ضرورت ہے کہ اس کا دروازہ کھٹکھٹا میں نہ کہ وہ ہمیں اپنے فضل اور رحم سے جگائے اور پھر بھی ہم اس سے کچھ نہ مانگیں۔پس ستی کو چھوڑ کر دعائیں کرنے کی عادت ڈالو۔کئی لوگ صرف فرض عبادت کو ضروری سمجھتے ہیں اور دعائیں اور ذکر الہی کرنے سے غافل رہتے ہیں۔مگر یہ بھی دہریت کی ایک رگ ہے جب کوئی قوم ذکر الہی کو چھوڑ دیتی ہے تو ایک فضول چیز کی طرح نکال کر پھینک دی جاتی ہے۔مدرسہ کے افسروں کو چاہیے کہ اپنے اندر دعا اور ذکر الہی کرنے کی عادت ڈالیں اور پھر طالب علموں کو اس میں لگا ئیں۔تم سب لوگ چوکس اور ہوشیار رہو۔اور ہمیشہ دعاؤں میں لگے رہو۔مگر آجکل خاص دن ہیں ان میں ضرور ضرور بہت بہت دعائیں کرو۔تا کہ خدا تعالیٰ ان روکوں کو ہٹا دے جو ہمارے راستہ میں ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو سمجھ دے۔خصوصا قادیان کے لوگوں کو۔کہ دعا کرنے میں کبھی سست نہ ہوں۔اور یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا کام ہو گیا ہے۔ہم ہر وقت خدا تعالیٰ کی مدد اور تائید کے محتاج ہیں اور جتنی جتنی ہماری عمر میں بڑھتی جاتی ہیں اتنی ہی زیادہ احتیاج بھی ہوتی جاتی ہے اس لئے کبھی ست نہیں ہونا چاہئیے۔جس قدر امتحان کے دن قریب آتے ہیں اسی قدر زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔اور اسوقت مست لڑکے بھی چست بن جاتے ہیں۔تم بھی کسی وقت ست نہ ہوا اور کبھی یہ نہ سمجھو کہ ہمارا کام ختم ہو گیا ہے۔کیونکہ موت تک تمہارا کام ختم نہیں ہوسکتا۔پس خدا تعالیٰ کے حضور دن رات ایک کر کے عرض کرو۔اور دعاؤں کو اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے سوتے جاگتے۔غرضیکہ ہر وقت ور د زبان رکھو۔دعا صرف زبان سے ہی نہیں کی جاتی۔بلکہ ہر ایک عضو دعا کرتا ہے۔کیا جب آنکھیں عجز و نیاز سے آنسو بہاتی ہیں تو وہ دعا نہیں ہوتی۔پھر کیا جب عاجزانہ شکل بنتی ہے تو وہ منہ دعا نہیں کرتا۔یا جب ہاتھ گھٹنوں پر گرتے ہیں تو دعا نہیں کرتے یا جب