خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 161

خطبات محمود جلد (5) ۱۶۱ اور جن کا موں کو انسان کرتا ہے ان کو بیان کر سکتا ہے مگر اس حصہ کی تفسیر کرنا اس کی طاقت سے باہر ہے جس کا کر نا خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سورہ فاتحہ کے دو حصے ہیں۔آدھی بندہ کے لئے اور آدھی خدا کے لئے۔لے آدھی میں بندہ طالب اور خدا مطلوب۔آدھی میں خدا طالب ہے اور بندہ مطلوب۔جس حصہ میں بندہ طالب ہے اور خدا مطلوب۔اس کے متعلق وہ بتا سکتا ہے اور دوسرا حصہ جو خدا سے تعلق رکھتا ہے اس کے متعلق کچھ نہیں بتا سکتا۔اور اس حصہ کی کوئی کیفیت نہیں بیان کر سکتا اسی سبب سے سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب فتوح الغیب میں لکھا ہے کہ انسان کا قلبی تعلق جو خدا سے ہوتا ہے اس کی نسبت پیرا اپنے مرید کا اور مرید اپنے پیر کا پتہ نہیں لگا سکتا ہے کہ کس قدر ہے۔لے تو اھدِینا سے وہ بار یک کیفیات شروع ہوتی ہیں جن کو کوئی انسان بیان نہیں کر سکتا اسی طرح دعا کے متعلق بعض ایسی باتیں ہیں جن کو انسان نہیں بتا سکتا۔ہاں جس پر وہ وارد ہوتی ہیں وہ انہیں خوب جانتا ہے۔لیکن بعض باتیں خدا نے اپنے فضل اور کرم سے انعام کے طور پر لوگوں کو بتا بھی دی ہیں تا کہ وہ لوگ جو قلبی کیفیات سے واقف نہیں ہوتے وہ بھی ان پر عمل کر کے دعا کا مزہ چکھ لیں۔چنانچہ ان میں سے ایک مظلوم کی دعا ہوتی ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مصائب اور مشکلات کے وقت اپنے لئے یا دوسروں کے لئے بددعا کر بیٹھتے ہیں۔اور وہ موقع جو خدا نے ان کو دعا کے قبول کرانے کا دیا تھا کھو دیتے ہیں۔لیکن یہ بہت بڑی غلطی ہے ایسا نہیں کرنا چاہئیے۔اس وقت جبکہ کوئی مظلوم ہو۔کسی قسم کی بد دعا نہ کرے بلکہ اپنے لئے دعا کرے کیونکہ خدا نے اسے دعا کرنے کے لئے بہت عمدہ موقعہ دیا ہے۔اور دعا کے قبول ہونے کا یہ ایک ایسا وقت ہے جسے ہر ایک شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے۔اسی طرح دعا کے قبول ہونے کا ایک اور وقت ہے جس کے معلوم کرنے کے۔لئے بھی بار یک کیفیات سے واقف ہونے کی ضرورت نہیں۔اور وہ وقت مسلم باب وجوب القراءة الفاتحة في كل ركعة - ۲ فتوح الغیب مقالہ نمبر ۱۷۷