خطبات محمود (جلد 5) — Page 160
خطبات محمود جلد (5) 17۔کی خاص حالتیں اور کیفیات ہیں جنہیں وہ انسان محسوس کر سکتا ہے جس پر وہ حالت وارد ہو۔گو خدا تعالیٰ نے ان کے سمجھنے اور سمجھانے کے لئے بھی سامان مہیا فرما دیے ہوئے ہیں مگر پھر بھی ان کا بہت کچھ تعلق ذوق سے ہے۔اس لئے ہر شخص کے لئے ان کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔میں جب حضرت خلیفہ اول سے بخاری پڑھا کرتا تھا تو ایک رؤیا دیکھا جس کا تعلق اس بات سے تھا کہ ایک حدیث پڑھی۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کے متعلق پوچھا گیا۔کہ کس طرح ہوتی ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ کصلصلة الجرس لے مجھے اس سے تعجب ہوا کہ گھنٹے کی آواز سے وحی کو کیا تعلق ہے۔رویا میں میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا میں نے دیکھا کہ میرا دل ایک کٹورے کی طرح ہے۔جیسے مراد آبادی کٹورے ہوتے ہیں۔اس کو کسی نے ٹھکورا ہے۔جس سے ٹن ٹن کی آواز نکل رہی ہے اور جوں جوں آواز دھیمی ہوتی جاتی ہے مادہ کی شکل میں منتقل ہوتی جاتی ہے۔ہوتے ہوتے اس سے ایک میدان بن گیا ہے اس میں سے مجھے ایک تصویر سی نظر آئی جو فرشتہ معلوم ہونے لگا۔میں اس میدان میں کھڑا ہو گیا۔اس فرشتہ نے مجھے بلایا۔اور کہا کہ آگے آؤ۔جب میں اس کے پاس گیا تو اس نے کہا۔کیا میں تم کو سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھاؤں۔میں نے کہا سکھاؤ اس نے سکھانی شروع کی۔سکھاتے سکھاتے جب إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تک پہنچا۔تو کہنے لگا تمام مفسرین میں سے کسی نے اس سے آگے کی تفسیر نہیں لکھی سارے کے سارے یہاں آکر رہ گئے ہیں لیکن میں تمھیں اگلی تفسیر بھی سکھاتا ہوں چنانچہ اس نے ساری سکھائی۔جب میری آنکھ کھلی تو میں نے اس بات پر غور کیا۔کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ تمام مفسرین نے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین تک کی تفسیر کی ہے۔آگے کی کسی نے نہیں کی۔اس کے متعلق میرے دل میں یہ تاویل ڈالی گئی کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تک تو بندے کا کام ہے جو اس جگہ ختم ہو جاتا ہے۔آگے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے خدا کا کام شروع ہو جاتا ہے تو تمام مفسرین کے اس حصہ کی تفسیر نہ لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس حصہ کی تفسیر تو کر سکتا ہے جو انسانوں کے متعلق ہے بخاری باب كيف كان بدء الوحى الى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔