خطبات محمود (جلد 5) — Page 157
۱۵۷ 21 خطبات محمود جلد (5) دُعاؤں کے قبول ہونیکے وقت سے فائدہ اٹھاؤ (فرمودہ ۷ جولائی ۱۹۱۶ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا :- وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة: ۱۸۷) ہر ایک کام کا ایک وقت ہوتا ہے اس وقت جس خوبی اور عمدگی سے وہ کام ہوسکتا ہے دوسرے وقت میں اس خوبی اور عمدگی سے نہیں ہوسکتا۔اور یہ بات چھوٹے چھوٹے کاموں سے لے کر بڑے بڑے کاموں میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ہر ایک کام اپنے خاص وقت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔اس وقت میں اگر کیا جائے تو جیسے اعلیٰ درجہ کے نتائج اس سے مترتب ہوتے ہیں دوسرے وقت میں ویسے نہیں ہو سکتے اور بعض کام تو اس قسم کے ہیں کہ اگر ان کے مقررہ وقت پر انہیں نہ کیا جائے تو دوسرے وقت میں ہوتے ہی نہیں۔ہر شخص اپنے کاموں میں اس بات کو دیکھ لے کہ جس رنگ میں وہ کام کرتا ہے۔یا جو کام وہ کرتا ہے اس میں اگر غور کرے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ اصل ہر ایک کام میں جاری ہے۔ایک زمیندار اپنے زمیندارے پر غور کر سکتا ہے۔وہ مختلف کھیتیاں۔غلے اور ترکاریاں ہوتا ہے۔مگر یہ نہیں ہوتا کہ تمام سال میں جس وقت وہ بیج ڈالے۔اسی وقت وہ کھیتی تیار ہو جائے گیہوں کے بونے کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔اگر اس وقت وہ نہیں ہوتا تو کھیتی نہیں ہوسکتی مقررہ وقت پر اگر اد نئے بیچ ڈالے تو بھی اچھے دانے حاصل کر لیتا ہے مگر بے وقت اگر اعلیٰ درجہ کا بیج ڈالے تو بھی کچھ نہیں ہوگا۔پھر بعض کھیتیاں تو ایسی ہیں کہ اگر انہیں وقت مقررہ پر بویا جائے تو اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہیں اور اگر دوسرے