خطبات محمود (جلد 5) — Page 6
خطبات محمود جلد (5) ۶ غرض مسلمانوں میں یہ ایک بہت بڑی مرض ہے اور یہ مرض یہاں بھی بعض لوگوں میں ہے یہاں ایک شخص نے لڑکوں کے افسر کو کہا تھا کہ میرا لڑکا جو خرچ کرنے کے لئے مانگے اسے دے دینا۔ اور دوکانداروں کو بھی کہہ گیا کہ کوئی چیز مانگے تو دے دینا اس لڑکے نے بیس روپیہ کی ایک مہینہ میں فرنی وغیرہ ہی کھالی ۔ اس قسم کے بہت سے واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ لڑکے بہت زیادہ فضول خرچی کرتے ہیں ۔ شاید دوکاندار ایسے لڑکوں کے ساتھ یہ برادرانہ محبت سمجھ کر کرتے ہوں ۔ مگر میں تو کہتا ہوں یہ برادران یوسف کا سلوک ہے۔ وہ بھی اپنے بھائی کو بیچ کر کھا گئے تھے اور اس قسم کے لوگ بھی بیچ کر کھا جانا چاہتے ہیں اور کوئی محبت اور برادرانہ ہمدردی نہیں کرتے۔ برادرانہ سلوک تو یہ ہے کہ کھانے والوں کو مفت دیں اور ان سے کچھ نہ لیں لیکن اس طرح کرنا کہ پہلے دیتے جانا اور پھر قیمت لینے کے لئے اس کے پیچھے پڑنا کوئی ہمدردی نہیں ہے گو بعض لوگ جو غریب ہیں انہیں اُدھار لینا پڑتا ہے اور انہیں دینا چاہیے لیکن ایسی صورت میں جبکہ ان کے گھر آٹا نہ ہو اور وہ فاقہ کشی کر رہے ہوں یا کپڑا نہ ہوا اور سخت حاجتمند ہوں ۔ یا اور کوئی ایسی ہی ضروری بات ہو۔ ایسا دیا ہوا اقرض اگر کوئی ادا نہ کر سکے تو دوسرے ادا کرنے کی طرف توجہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی کسی کو مٹھائی کھلاوے اور پھر ایسے قرض کے لئے چارہ جو ہو تو کسی کو کیا ضرورت ہے کہ اس کا قرض ادا کرے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے که اسراف نہ کرو۔ اس لئے اسراف کرنا اور اسراف کرنے والے کی مدد کرنا دونوں گناہ ہیں مثلاً جیسا شراب پینے والا گناہگار ہے ایسا ہی پلانے والا بھی گناہگار ہے۔ جو دو کا ندار قرض پر مٹھائی دے کر دوسرے کو مسرف بناتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے خود مٹھائی کھلائی ہے۔ اس شخص نے مانگی ۔ میں نے دے دی۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ میں نے خنزیر خود نہیں کھایا بلکہ اور کو کھلایا ہے تو کیا کھلانے والا بدتر نہیں ہوگا ۔ ضرور ہوگا ۔ ہوگا۔ ہوگا۔ ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگوں میں ابھی تک اسراف کی مرض چلی آتی ہے لیکن یہ لطف کی بات ہے اسراف کرنے والوں کا پتہ دیر سے معلوم ہوتا ہے۔ مگر بخل کرنے والے پر بہت جلدی آوازے کیسے جاتے ہیں ۔ اسراف کرنے والے کے ساتھی پہلے پہلے اسے کوئی ہدایت نہیں کرتے لیکن جب وہ تباہ ہو چکتا ہے تو وہ بھی کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس نے احتیاط نہیں کی ۔ ان سے کوئی پوچھے