خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 136

خطبات محمود جلد (5) ۱۳۶ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو ۔“ 66 ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۳۸ ) اب جبکہ حضرت مسیح موعود نے یہ لکھ دیا ہے تو ایک ایسا شخص جو آپ کا متبع ہونے کا دعوی کرتا ہے یہی کہتا جائے کہ نہیں نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو تو اس کے نادان ہونے میں کیا شک ہے۔ نادان نہیں بلکہ اس کے عاصی اور گنہگار ہونے میں بھی کوئی شک نہیں ۔ پس جب حضرت مسیح موعود نے بار بار کی وحی کے ماتحت یہ لکھ دیا ہے کہ نبی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔ اب جو شخص کہتا ہے کہ متبع نہ ہونا ضروری ہے وہ ضرور نادان ہے۔ حضرت مسیح موعود نے ابتداء میں جو کچھ لکھا ہے۔ اس کا نام ہم احتیاط رکھیں گے۔ کیونکہ اس وقت آپ پر اس کے متعلق کوئی انکشاف نہ ہوا تھا۔ اس لئے آپ نے عوام کے عقیدہ کے مطابق لکھ دیا۔ لیکن آپ کو ہم یہ لکھنے سے نعوذ باللہ نادان نہیں کہہ سکتے ۔ دیکھو صحابہ میں سے ایسے لوگ تھے جو شراب پیتے تھے لیکن ان کو اسلام سے خارج نہ کیا گیا۔ کیوں؟ اسلئے کہ اس وقت شراب کی ممانعت کے متعلق کوئی حکم نہیں نازل ہوا تھا۔ اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ ہاں جب حکم نازل ہو گیا اس کے بعد اگر کوئی شراب کو حلال سمجھ کر پیتا تو ضرور اسلام سے خارج ہو جاتا ۔ تو بعض ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ جب تک خدا تعالیٰ ان کے متعلق کوئی حکم نازل نہ کرے اس پر نبی اسی طرح عمل ہونے دیتا ہے جس طرح پہلے ہو رہا ہو۔ اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور حضرت مسیح موعود کی زندگی شاہد ہے۔ وہ شخص کیسا نادان ہے جو یہ کہتا ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود کی ہتک کی ہے کیونکہ اس کا گر وہ ہم پر سب سے بڑا الزام ہی یہ لگاتا ہے کہ ہم غلو کرتے ہیں ۔ اب اس سے کوئی پوچھے کہ کیا غلو کرنے والا بھی یہ لگاتا ہے کہ غلو ہیں اس سے کوئی پوچھے کیا والابھی ہتک کر سکتا ہے۔ ہتک ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اصل درجہ سے کم کر کے دکھانے کی کوشش کر رہا ہو۔ ہتک کا الزام ان پر ہے نہ کہ ہم پر ۔ کیونکہ بخیال ان کے ہم تو حضرت مسیح موعود کے درجہ میں غلو کرنے والے ہیں اور وہ کم کرنے والے۔ پس میرے فقرہ کے وہ معنی کرنے کہ جن کی میرے ہی مضمون میں تردید کی گئی ہے۔ نیک نیتی پر بنی نہیں ہیں۔ میں نے تو بتا دیا ہے کہ ” ایک بات جب تک پوشیدہ اور پردہ اخفا میں ہو اسے اصل کے خلاف ماننا ایک اور بات ہوتی