خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 128

۱۲۸ 18 خطبات محمود جلد (5) کلام کو بگاڑ کر پیش کرنے والے لوگ کون ہوتے ہیں؟ (فرموده ۹ جون ۱۹۱۶ء) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا:- افَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (البقرة:4) دنیا میں کسی چیز کے یا کسی انسان کے دو قسم کے مخالف ہوتے ہیں ایک وہ جن کی مخالفت اس چیز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔اور بسبب اس کو نا درست اور صداقت سے دور سمجھنے کے اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔دوسرے وہ جو کسی چیز کی مخالفت اس لئے نہیں کرتے کہ وہ انہیں نادرست معلوم ہوتی ہے بلکہ ان کی کچھ خود غرضیاں ہوتی ہیں جو انہیں اس کی مخالفت کے لئے کھڑا کر دیتی ہیں ایسے لوگ اکثر جھوٹ اور فریب سے کام لیتے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو کسی بات کی اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ وہ سچی اور درست نہیں ہے وہ مقابلہ کرتے ہوئے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔جھوٹ ہمیشہ وہی انسان بولا کرتا ہے کہ جس بات پر وہ قائم ہوتا ہے اس کی صداقت کا اسے یقین نہیں ہوتا۔کیونکہ اگر وہ صداقت کی خاطر مقابلہ کے لئے کھڑا ہو تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ وہ خود جھوٹ بولے۔ایک انسان جو صداقت کی خاطر بیوی۔بچے۔عزیز رشتہ دار مال و دولت حتی کہ جان تک دے دینے کے لئے تیار ہوتا ہے اس سے ممکن نہیں کہ کوئی جھوٹ کا کلمہ نکل سکے۔پس ایک بات کو سچا سمجھ کر اس پر کھڑے ہونے والے مقابلہ کرتے وقت کبھی جھوٹ سے کام نہیں لیتے لیکن جن لوگوں کا کسی بات کو ماننا اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ سچی ہے خواہ ان کا ظن غالب یہی ہو کہ سچی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ واقعہ۔