خطبات محمود (جلد 5) — Page 108
خطبات محمود جلد (5) ۱۰۸ کے پاس آئی۔بہت جنسی پوچھا کیوں ہنستی ہو۔کہنے لگی میرا بیٹا مر گیا ہے۔کچھ دنوں کے بعد پھر آئی اور پھر اسی طرح ہنسنا شروع کیا۔پھر پوچھا تو کہا کہ میرا دوسرا بیٹا بھی مر گیا۔گوا سے ایک بیماری تھی۔مگر اس کے لئے راحت ہو گئی۔جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا تھا۔اب اگر وہ رنج محسوس کرتی تو اسے اور تکلیف ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں۔اسی لئے تو فرمایا فلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ٣٩) ان کو خیال ہوتا ہے کہ ہم نے ایسی ہستی کے ہاتھ میں اپنے آپ کو سپرد کیا ہوا ہے جو ظالم نہیں دیکھو اگر مسافر جا رہے ہوں۔اور انہیں ایک راستہ جاننے والا راستہ بتانے کے لئے مل جائے تو وہ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ایک اچھے لائق استاد کے سپرد لڑکے کر کے لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں۔یہ تو انسانوں کا حال ہے تو رب العالمین۔رحمن رحیم۔مالک یوم الدین کے سپر د جو اپنا معاملہ کر دے اس کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے اس کو خواہ کس قدر بھی تکالیف آدیں۔تو وہ پرواہ نہیں کرتا۔کیونکہ وہ خیال کرتا ہے میرا رہنما مجھے ہر حالت میں جنت کی طرف لے جا رہا ہے۔بہت لوگ ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس پر غور نہیں کیا۔ان طاقتوں پر غور کرتے جو خدا نے ان میں پیدا کی ہیں۔وہ ان احسانات پر غور کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کئے تھے۔تو اس عذاب میں نہ پڑتے۔بہت لوگ ہیں جو لکھتے ہیں ہم ہلاک ہو گئے تباہ ہو گئے۔کیوں ہوئے۔جب خدا نے تمہارے اپنے نفس کے اندر جنت رکھی تھی کہ تم بغیر آنکھیں کھولنے اور ہاتھ پاؤں ہلانے کے اس جنت کو کھول سکتے تھے۔تکالیف جو آتی ہیں وہ انسان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔وہ خیال کر سکتا ہے کہ یہ مجھے جگانے کے لئے آتی ہیں۔مثلاً ایک پہاڑ پر چلتے ہوئے ایک شخص سو جاتا ہے اور اس کو اس کا رہبر جگا دیتا ہے تو بے شک اس جگانے سے اسے تکلیف ہوئی۔لیکن یہ اسے متنبہ کیا گیا کہ ہوشیار ہو جاؤ۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جو تکلیف آتی ہے وہ بھی ہوشیار کرنے کے لئے آتی ہے۔اور اس سے بتایا جاتا ہے کہ تم اپنے اوپر جنت کے دروازے بند کرنے لگے تھے۔ہوشیار ہو جاؤ غرض جو لوگ شکایت کرتے ہیں ان کی اپنی غلطی ہے۔جنت تو ہمارے نفس کے اندر ہے وہ بڑھتی ہے تو اتنی بڑھتی ہے کہ قبر میں بھی ساتھ جاتی ہے۔محشر میں بھی ساتھ ہوگی اور پھر استقبال کو بھی آئے گی۔مگر وہ خدا تعالیٰ پر یقین کرنے