خطبات محمود (جلد 5) — Page 80
خطبات محمود جلد (5) ۸۰ دیئے گئے ہیں۔انہوں نے سمجھا ہی نہیں کہ قرآن کریم کسی چیز سے کیوں روکتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ گناہ جو براہ راست انسان کی روح پر اثر ڈالتے ہیں۔ان کا جسم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔مثلاً جھوٹ اگر کوئی ساری عمر بولتا رہے تو اس سے اس کے جسم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔بلکہ یہ گناہ براہ راست اس کی روح پر اپنا بد اثر ڈالے گا۔دوسرے وہ گناہ ہوتے ہیں جو جسم میں سے ہو کر روح کو خراب کرتے ہیں۔یعنی ان کا پہلے جسم پر اثر پڑتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ روح پر۔چنانچہ جن اشیاء کے کھانے کی ممانعت کی گئی ہے وہ ایسی ہی ہیں جو دوسری قسم کے گناہوں میں شمار کی جاتی ہیں۔مثلاً اگر کوئی مردہ کھالے یا خون پی لے۔تو اس کا پہلے جسم پر اثر پڑے گا۔اور پھر روح پر۔یا اگر کوئی کسی ایسے جانور کا گوشت کھالے جو بتوں وغیرہ کے لئے ذبح کیا جائے تو اس طرح چونکہ اس ذبح کرنے والے کی تائید کرتا ہے اس لئے منع کر دیا تا کہ ایسے لوگ ہی نہ ہوں جن کو اللہ کے سوا اوروں کے لئے جانور ذبح کرنے کی جرات ہو۔پس یہ تمام احکام ایسے ہیں کہ جن کا گناہ انسان کی روح تک دوسروں کے واسطے سے پہنچتا ہے یعنی یا تو اس کے جسم کے ذریعہ سے یا اور لوگوں کی وجہ سے۔اب ظاہر ہے کہ ان چیزوں کے منع کرنے سے یا تو انسان کے جسم کی حفاظت مد نظر ہے اور یا دوسروں کی اصلاح اس لئے اگر کوئی ایسا وقت آبنے جبکہ جسم تباہ ہوتا ہو اور سوائے ان چیزوں میں سے کسی کے کھانے کے وہ بچ نہ سکتا ہو تو ان کے کھانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ دو شرطیں بھی لگا دی ہیں کہ اس اجازت سے فائدہ اٹھانے والا انسان باغی اور عادی نہ ہو۔پس اگر کوئی شخص ان اشیاء میں سے کوئی ایک کھائے گا۔تو ایسی حالت میں کھائے گا جبکہ وہ نہایت اضطرار میں ہوگا اور پھر ایک قلیل مقدار میں قلیل عرصہ کے لئے کھائے گا اسلئے وہ نقصان جس کی وجہ سے ان کا کھانا بند کیا گیا تھا۔وہ اسے نہیں پہنچے گا لیکن وہ چیزیں جو براہ راست روح پر اثر ڈالنے والی ہوتی ہیں۔ان کو ہر صورت میں خدا تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔اور کسی حالت میں بھی ان کو جائز قرار نہیں دیا۔اگر ایسانہ ہوتا تو پھر کوئی گناہ گناہ ہی نہ رہتا۔مثلاً چور چوری کرتا ہے کیوں؟ اس لئے کہ اس کے اپنے گھر مال نہیں ہوتا۔گو ایسے بھی چور ہوتے ہیں جو مالدار ہوتے ہیں اور عاد یا چوری کرتے ہیں مگر اکثر ایسے ہی لوگ چوری کرتے