خطبات محمود (جلد 5) — Page 608
خطبات محمود جلد (5) ۶۰۷ واقف ہوگا۔وہی کامیاب ہوگا۔پھر آجکل طاقت کا دخل بہ نسبت تدبیر کے بہت کم ہے۔جرمن سلطنت مال و ملک و افواج کے لحاظ سے ہماری گورنمنٹ کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔مگر چونکہ وہ ایک عرصہ سے تدبیر میں لگی ہوئی تھی۔اس لئے اب تک وہ مقابلہ کر رہی ہے۔پس اگر ہم اپنا سارا زور خرچ کریں لیکن انتظام کے ساتھ نہ کریں تو ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس لئے ضرورت ہے کہ ہماری ساری طاقتیں جمع کی جائیں اور ان کو بہتر سے بہتر طریق کے ساتھ چلایا جائے۔تا کہ ان طاقتوں سے اس قدر کام نہ لیا جائے کہ بالآخر وہ ٹوٹ جائیں۔چھت تب ہی قائم رہتی ہے۔جب کڑیوں پر زیادہ بوجھ نہ ہو۔ہمارا دشمن ظاہری ساز و سامان کے لحاظ سے ہر طرح ہم سے بڑھا ہوا ہے مگر مدد کیلئے چاروں طرف سے آوازیں آ رہی ہیں۔اسلام میں ارتداد بڑھتا چلا جاتا ہے۔اب اگر ہم سب طرف توجہ کریں تو اس ہر دلعزیز والا معاملہ ہوتا ہے جو دریا کے کنارے لوگوں کو پارا تارنے کے لئے بیٹھا رہتا تھا۔وہ ایک شخص کو جب سوار کر کے لے جاتا تو دوسرا آواز دیتا کہ جلدی کرنا مجھے پارلے جانا۔وہ یہ سن کر پہلے کو دریا میں ہی چھوڑ آتا۔اور دوسرے کے لئے آ جاتا تا کہ اس کی ہر دلعزیزی قائم رہے۔اور اس طرح سب کو ہلاک کر دیتا تھا۔اس وقت بعض مقامات ایسے ہیں کہ جہاں ہم ایک روپیہ خرچ کر کے جو کام کر سکتے ہیں۔وہ بعد میں دس لاکھ روپیہ خرچ کر کے بھی نہیں کر سکتے۔اس لئے دنیا کے سارے مقامات کو جانے دو۔مگران مقامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو زیادہ محتاج اصلاح ہیں۔اور زیادہ خرچ بھی نہیں چاہتے۔لیکن اب تک ایسے مقامات جن میں واقعی ضرورت ہے۔ان میں سے بھی سودان ' حصہ نہیں جسکی طرف ہم توجہ کر سکے ہیں۔ہماری جماعت پر دن بدن بوجھ بڑھ رہا ہے۔اور بعض کمزور طبائع ہیں جو اس بوجھ کو نہیں برداشت کر سکتیں۔لیکن اگر موجودہ طریق کو کتنا بھی بڑھا دیا جائے تب بھی اس عظیم الشان کام کے مطابق نہیں ہو سکتا جو ہمارے پیش نظر ہے۔اسوقت ہماری حالت تو یہ ہے نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔