خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 607

خطبات محمود جلد (5) اسلام سکھانا۔اور اس کی حقیقت بتانی ہے۔پھر جو ہمارے مقابلہ میں مال صرف ہورہے ہیں۔ان کا اندازہ بھی مشکل ہے۔ساٹھ کروڑ روپیہ عیسائیت کی تبلیغ میں صرف ہوتا ہے اور ستر ہزار عیسائی مشنری دنیا میں کام کر رہا ہے۔اور صرف انہی مشنریوں پر ہی ان کی تبلیغ کا دائرہ ختم نہیں ہو جا تا۔بلکہ اور بھی بہت سے طریق ہیں جن کے ذریعہ عیسویت کی تبلیغ کی جاتی ہے۔کالج بنائے گئے ہیں۔سکول کھولے گئے ہیں۔ہسپتال قائم کئے گئے ہیں ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں کتب شائع کی جاتی ہیں۔یتیم خانے بنائے گئے ہیں اگر ان تمام اخراجات کو نظر انداز کر کے صرف ستر ہزار مبلغوں کی تنخواہوں کا ہی اندازہ کیا جائے۔اور اوسط تنخواہ سنو روپیہ ماہوار فرض کی جائے تو نظام دکن کی آمدنی جتنا ان کا صرف مبلغوں کا ہی خرچ ہوگا۔اور جو دوسری مدات میں صرف ہوتا ہے وہ ۲۰ کروڑ سے کیا کم ہوگا۔اس کے مقابلہ میں ہمارے لئے جو سامان ہیں۔وہ گویا کچھ بھی نہیں۔اگر ہماری جماعت تکلیف برداشت کر کے اپنی ساری آمدنیوں کو بھی دیدے تو بھی اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہماری تو وہی مثل ہے ایک انار وصد بیمار کسی طبیب کو تو ایک انار کی موجودگی میں سو بیمار کی شکایت کرنا پڑی تھی۔لیکن یہاں تو ایک انار اور کروڑ ہا بیمار کا معاملہ ہے۔جب صورتِ حال یہ ہے تو کوئی ایسی تجویز سوچنا چاہیئے جس سے ہمارا فرض عمدگی کے ساتھ ادا ہو جائے۔اور یہ صاف بات ہے۔کبھی کوئی کام اس وقت تک عمدگی سے نہیں ہو سکتے۔جب تک کہ تدبیر کے ساتھ اس کے تمام پہلوؤں پر غائر نظر کر کے دیکھ نہ لیا جائے۔پس سب سے پہلے دیکھنا یہ چاہئیے کہ تبلیغ اسلام کی راہ میں روکیں کیا ہیں اور سامان کیا ہیں۔پھر ہم آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح اور کس طریق سے ہمیں کام کرنا چاہئیے۔یہ بات یا در کھنے کے قابل ہے کہ دنیا میں محض طاقت سے کام نہیں ہو سکتا جب تک کہ طاقت کے ساتھ تدبیر اور انتظام نہ ہو دو پہلوان کشتی لڑتے ہوں۔ان میں جو طاقت ور ہونے کے ساتھ داؤ پیچ سے بھی