خطبات محمود (جلد 5) — Page 585
خطبات محمود جلد (5) دیتا ہے۔۵۸۴ اور دوسرے وہ جو محنت کے ساتھ مانگنے پر ملتے ہیں۔پس جو ایسے اعلیٰ درجہ کے انعامات ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ کوشش سے ہی ملتے ہیں بلکہ کوشش کے ساتھ مانگنا بھی پڑتا ہے۔پس جہاں ان مشکلات اور مصائب کے مقابلہ میں محنت اور کوشش کی ضرورت ہے جو ہمارے دشمنوں کی طرف سے ہماری راہ میں پیدا کی گئی ہیں۔اور ضرورت ہے کہ ہم اپنی تمام خدا داد طاقتوں اور قوتوں کو انکے مقابلہ میں صرف کریں جو ہم میں پائی جاتی ہیں کہ اسلام اور احمدیت کا منور چہرہ دنیا پر ظاہر ہو۔وہاں اس کے علاوہ خدا کے انعامات کا وارث ہونے کیلئے درخواست بھی کرنی چاہئیے۔رتبہ بغیر مانگنے کے نہیں ملتا۔پس محض کوشش اور محنت انعامات نہیں دلوا سکتی اس لئے سامانوں کے استعمال کیلئے ضروری ہے کہ دعا سے بھی کام لیا جاوے۔اسلئے ہماری جماعت کیلئے ضروری ہے کہ سامان بھی مہیا کرے اور درخواست بھی کرے کہ خدا یا ہم پر اپنے فضل نازل فرما۔یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ جیسے ممکن نہیں کہ دروازہ کھول دیا جاوے اور روشنی نہ آئے۔اور ممکن نہیں کہ کھانا کھایا جائے اور سیری نہ ہو۔اور ممکن نہیں کہ پانی پیا جائے اور پیاس نہ بجھے۔اور ممکن نہیں کہ لباس پہنا جائے اور برہنگی دُور نہ ہو۔اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ محنت کے ساتھ ساتھ جب خدا سے درخواست بھی کی جائے تو انعام نہ ملے۔ہاں اگر کوئی عقل یہ تجویز کرسکتی ہے کہ دروازہ کھلے اور روشنی اندر نہ آئے۔کھانا کھایا جائے اور سیری نہ ہو۔پانی پیا جائے اور پیاس نہ بجھے۔اور کپڑے پہنے جائیں اور عریانی دُور نہ ہو۔یہ تو شاید ہو سکے۔مگر یہ قطعا ممکن نہیں کہ خدا کے دیئے ہوئے سامانوں کو استعمال کر کے پھر اسی سے استدعاء کی جائے تو وہ کامیاب و مظفر و منصور نہ کرے اور اپنے انعامات کا وارث نہ بنائے۔پس ہمارے ارد گرد پہاڑوں کے پہاڑ مشکلات کے جمع ہیں۔خدا سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ وہ ان رکاوٹوں کو دور فرمادے اور ہم پر انعامات نازل کرے۔(الفضل ۶ نومبر ۱۹۱۷ء)