خطبات محمود (جلد 5) — Page 561
۵۶۰ 75 خطبات محمود جلد (5) مومن کا بہشت فرموده ۲۸ رستمبر ۱۹۱۷ء بمقام شمله حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ تلاوت فرمانے کے بعد کہا کہ مومن اور کافر میں یہ فرق ہے کہ مومن ہمیشہ اور ہر گھڑی خوش ہی رہتا ہے کوئی مصیبت۔کوئی دکھ اور کوئی رنج اس کو غمزدہ نہیں کر سکتا۔خائف اور محزوں نہیں بنا سکتا۔وہ ہر وقت اسی دنیا میں جنت میں ہی رہتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ مومنین کے متعلق فرماتا ہے : فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر :٣) تو اس دنیا میں خدا تعالیٰ مومن کو جنت میں داخل کر دیتا ہے۔عید ایک خوشی کے دن کا نام ہے۔کیونکہ عید کوٹ کوٹ کر آنیوالی چیز کو کہتے ہیں۔یہ دعا ہے کہ فلاں وقت بار بار لوٹے۔اور بار بار خوشی کی بات کے لوٹنے کی ہی خواہش کی جاتی ہے نہ کہ غم اور تکلیف کی کسی کے ہاں اگر بیٹا ہو تو وہ خواہش کرتا ہے کہ ایسا موقعہ اسے پھر بھی نصیب ہو۔یا اگر کسی کو مال ملے تو وہ چاہتا ہے کہ پھر اسے ایسا ہی وقت نصیب ہو۔لیکن اگر کسی کے ہاں ماتم ہو یا مال چوری ہو جائے تو وہ کبھی خواہش نہیں کرے گا کہ ایسا پھر بھی ہو۔تو دوبارہ آنے کی خواہش اسی بات کی ہوتی ہے جو خوشی کی ہو۔اور اسی کو عید کہتے ہیں۔لیکن مومن چونکہ ہر وقت ہی خوشی اور راحت میں ہوتا ہے اس لئے ہر وقت ہی عید ہوتی ہے۔اور بعض عید میں جو اسلام نے مقرر کی ہیں ان میں اور حکمتیں بھی ہوتی ہیں۔مثلاً جمعہ کا