خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 555

خطبات محمود جلد (5) ۵۵۴ کو ملتا ہے۔بلکہ یہ لوگ ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا کہ مدینے میں کچھ ایسی جماعتیں ہیں کہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہی تمہارے ساتھ ہیں۔اگر چہ وہ جماعتیں وہ تکالیف نہیں اٹھا تیں جو تم اٹھارہے ہو کیونکہ وہ مجبور اوہاں رہ گئے ہیں۔مگر یہ در جہ صرف معمولی خواہش سے حاصل نہیں ہو سکتا۔بلکہ یہ درجہ اسوقت ملتا ہے جبکہ دل اپنی مجبوری پر سخت مغموم ہو اور کڑھتا ہو اور اس میں سخت تڑپ ہو کہ کاش وہ بھی کچھ اللہ کی راہ میں صرف کرنے کی قدرت رکھتا اور اسے بھی اللہ کی راہ میں جان کو قربان کرنے کا موقع ملتا۔اگر چہ ایسی حالت میں انسان کے جوارح ساتھ نہ ہوں لیکن بسبب سچی تڑپ وہی درجہ پاتا ہے جو درحقیقت خدا کی راہ میں جان ومال قربان کرنے والوں کو ملتا ہے۔آجکل ہماری جماعت بھی کئی کام نہیں کر سکتی۔بسبب مجبوری کے تو ان آیات میں اس کیلئے بھی ایک سبق ہے۔مثلاً اگر کسی شخص کو یہ توفیق نہیں کہ وہ اپنے کام سے فرصت پا کر تبلیغ کرے۔یا بسبب افلاس کے کچھ خدا کی راہ میں خرچ کر سکے تو اگر اس کی ہمت بلند ہو۔اور نیت پاکیزہ ہواور دل میں یہ تڑپ ہو کہ کاش وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر سکے اور تبلیغ حق کی اسے توفیق ہو تو اس کے لئے بھی اللہ کے ہاں وہی اجر ہے جو تبلیغ کرنے والوں اور فی سبیل اللہ خرچ کر نیوالوں کے لئے ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو نیت کے سبب بڑے مدارج پر پہنچ جاتے ہیں۔اور بہت ہیں جو نیک نیت نہ ہونے کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق کی وجہ فضیلت یہی بیان کی کہ ابوبکر کو جو تم پر فضیلت ہے وہ اسکے اعمال کے باعث نہیں بلکہ اس کی نیت کے باعث ہے۔حضرت عمرؓ کا قول ہے نیۃ المومن خیر من عملہ۔۔اس قول کے متعلق دو غلطیاں ہوئیں ایک یہ کہ اس کو حدیث قرار دیا گیا۔دوسرے یہ کہ اس کے معنے یہ کئے گئے کہ عمل کرنے کی نسبت نیک نیت بہتر ہے دراصل اس کے معنے یہ ہیں کہ مومن جس قدر : بخاری کتاب الجہاد والسیر باب من حبه العذرعن الغزو۔:- اردو تر جمہ مکاشفتہ القلوب مصنفہ امام غزالی۔