خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 556

خطبات محمود جلد (5) ۵۵۵ نیک عمل کرتا ہے۔اس سے بڑھ کر عمل نیک کرنے کی نیت رکھتا ہے۔ہزار خرچ کرتا ہے تو نیت ہوتی ہے کہ اگر دس ہزار ہوتا تو وہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا اور باوجود اس کے اسے غم ہوتا ہے کہ میں نے کوئی خدمت نہ کی اور وہ بڑھ کر عمل کرنے کی نیت رکھتا ہے۔نیست بدانسان کو اکثر ہلاک ہی کرتی ہے۔کہتے ہیں کہ ایک شخص کی کتیا نے بچے دیئے۔اس کے کسی دوست نے اس سے ایک بچہ مانگا تو اس نے جواب دیا کہ کتیا کے بچے تو سب کے سب مر گئے۔لیکن اگر وہ زندہ بھی ہوتے تب بھی میں کوئی بچہ نہ دیتا۔اس کے دوست نے کہا کمبخت تمہارے خبث باطن کی پردہ پوشی کے لئے بچے تو سب کے سب مر ہی گئے تھے لیکن تم نے اپنے خبث باطن کو ظاہر کر ہی دیا۔غرض ایک شخص یہ نیت رکھتا ہے کہ میں اگر ضرورت پیش آجاوے تو وطن کو مال کو اولا د کو کاروبار کو خدا کے لئے چھوڑ دوں گا تو وہ شخص اپنے گھر اور بال بچوں میں رہتے ہوئے اور اپنا کا روبار کرتے ہوئے بھی ان لوگوں میں داخل ہو جائے گا جنہوں نے وہ سب کچھ فی الواقعہ ترک کیا۔نیت نیک سے عمل نیک کی توفیق بھی ملتی ہے۔اور وہ انسان کو کام کا اہل بھی بنادیتی ہے جبکہ وہ بار بار اس کو دل میں لاتا رہتا ہے۔جب زندہ لوگ اپنی قوم میں ایسی رُوح پھونکنا چاہتے ہیں تو ان کی ہمتوں کو بلند کرنے کے لئے ان کو مختلف پیرائیوں میں بتاتے ہیں کہ وہ ایسے ہیں اور ایسے ہیں اور ان کے آباؤ اجداد ایسے تھے کہ ملک کیلئے اپنی جانوں کو بے دریغ قربان کرتے تھے وغیرہ وغیرہ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وقت پر وہ قوم بھی جان قربان کرنے کو تیار ہو جاتی ہے۔برخلاف اس کے متعصب لوگوں کی لکھی ہوئی تاریخ ہند پڑھ پڑھ کر بہت سے لوگوں کو اسلامی سلطنت کے ظالم ہونے کا خیال پیدا ہو گیا۔انگلینڈ کو دیکھو کہ موجودہ جنگ کے موقعہ پر ابتداء تھوڑی سی فوج جو قریب ایک لاکھ تھی دشمن کے مقابل لا سکا۔لیکن چونکہ اہلِ انگلینڈ کے دلوں میں ابتداء سے ہی فرض شناسی کی عادت قومی اور خدمت ملکی کے جذبات کو بار بار ڈالا گیا تھا اس لئے اب ضرورت کے وقت وہ دفعتہ تیار ہو گئے۔یہاں تک کہ اب سب سے زیادہ فوج انگلستان ہی