خطبات محمود (جلد 5) — Page 547
خطبات محمود جلد (5) ۵۴۶ کھڑا ہو جو دعویٰ خلافت کر دے۔اس کے علاوہ اور تباہی ایسی آئی جس کی کوئی حد نہیں !۔یا تو مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد زبان زد خواص و عوام تھا اور ان کے اتحاد کا ایک رُعب تھا۔لیکن ان واقعات کے بعد جب آپس میں خوب اچھی طرح پھوٹ پڑ گئی۔یورپ کے لوگوں نے گیارہویں۔بارہویں۔تیرہویں صدی میں جو صدمہ اسلام کو پہنچایا وہ کوئی کم درد انگیز نہیں۔یورپ کے لوگ مسلمانوں پر اس لئے چڑھ آئے تھے کہ مسلمانوں کو مٹا کر شام کا ملک خصوصا بیت المقدس ان کے قبضہ سے نکال لیں۔اس وقت مسلمانوں کو اپنے مسلمان بھائیوں سے کیا مدد پہنچی ؟ وہ یہ تھی کہ فرقہ باطنیہ کے بادشاہ نے عیسائیوں کو لکھ بھیجا کہ آپ کو جس قدر مدد درکار ہوگی میں مسلمانوں کے خلاف بہم پہنچاؤں گا۔وہ ایسی ظالمانہ جنگیں تھیں کہ عیسائی مؤلفین تک ان کو ظالمانہ جنگیں کہتے ہیں۔ان میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے بوڑھوں بچوں عورتوں تک کو قتل کر ڈالا تھا۔چنانچہ اس مسلمان بادشاہ نے فرانس کے عیسائی بادشاہ فلپ کو اپنے ہاں بلوایا۔جس مکان میں اس سے ملاقات کی اسکی اوپر کی منزل میں کھڑکیاں تھیں۔ان میں دو دو پہرے دار کھڑے تھے۔فلپ کو اپنا رعب اور اپنی مدد کی اہمیت دکھانے کے لئے کہا کہ یہ میرے پہرہ دار ہیں۔میں دکھاؤں کہ یہ کیسے فرمانبردار ہیں۔ہاتھ سے دو کی طرف اشارہ کیا وہ دونوں اوپر کی منزلوں سے زمین پر گرے اور گرتے ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔اور جب ان کا یہ انجام ہو چکا دو اور کو اشارہ کیا وہ بھی اسی طرح گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔اس باطنیہ فرقہ کے ایک فدائی نے ان صلیبی جنگوں میں یہ کام کیا کہ صلاح الدین جو نہایت نیک اور بہادر مسلمان بادشاہ تھا اور اکیلا تمام یورپ کے مقابلہ میں مدافعت کر رہا تھا عین اس وقت جبکہ وہ نماز پڑھ رہا تھا۔اس پر حملہ کیا۔خدا کی قدرت کہ حملہ کر نیوالا ٹھوکر کھا کر صلاح الدین کے آگے جا گرا۔اور تلوار ہاتھ سے گر گئی۔سلطان نے تلوار اٹھا کر اس کو قتل کیا۔اسی طرح اس فرقہ باطنیہ کے فدائیوں نے دو تین : تاریخ الخلفاء حالات معتصم بالله و تاریخ اسلام از شاہ معین الدین ندوی جلد چہارم۔