خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 511

خطبات محمود جلد (5) ۵۱۰ رمضان بھی ابتلاؤں میں سے ایک ابتلاء ہے۔بڑے بڑے امیر آدمی جن کے پاس ہزاروں ہی نعمتیں ہوتی ہیں جب رمضان کا مہینہ آتا ہے۔باوجود تمام قسم کی نعمتیں اور عمدہ سے عمدہ کھانے اور اعلیٰ درجہ کے مسالے بھی ہوتے ہیں بھوک بھی سخت ہوتی ہے۔مگر خدا کے حکم کے ماتحت سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔پھر ان کو معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی مخلوق کی کیا حالت ہے۔رمضان ایک سبق ہے کہ تا وہ سمجھیں کہ جن کو بھوک ہوتی ہے اور جو پیاسے ہوتے ہیں انکی کیا حالت ہوتی ہے۔اس لئے وہ انکی بھوک اور پیاس کے دور کرنے کی کوشش کریں۔انکے دلوں میں ہمدردی کا جوش پیدا ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینہ میں بہت خیرات کرتے تھے۔حتی کہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ رمضان میں صدقہ اس کثرت سے کرتے تھے جیسا کہ تیز ہوا چلتی ہے لا۔آپ دوسرے ایام میں بھی صدقہ کرتے تھے۔مگر رمضان کے مہینہ میں بالخصوص حضور بہت صدقہ و خیرات سے کام لیتے تھے۔یہ آیات جو میں نے پڑھی ہیں۔ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومن کا ایک کام یہ بھی بتایا ہے ويطعمون الطعام على حبه مسكينًا و یتیما و اسیرا وہ اللہ کی محبت کے سبب سے نہ ریاء کے طور پر کھانا کھلاتے ہیں۔مسکینوں یتیموں اور اسیروں کو چنا نچہ وہ کہتے ہیں انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نريد منكم جزاء ولا شكورا کہ ہم جو تمہیں کھانا کھلاتے ہیں یہ محض اللہ کی خاطر ہے ہم تم سے اس کا کوئی بدلہ نہیں چاہتے نہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ لوگ شکریہ کے طور پر جزاک اللہ ہی کہیں مگر یہ کھانا کھانے والوں کا فعل ہے کہ جب ان پر کوئی احسان ہو تو اس احسان کا شکر یہ ادا کریں۔پس وہ مومن کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اس لئے آپ لوگوں کی کچھ خدمت کرتے ہیں کہ صرف اللہ راضی ہو جائے۔ان سبقوں میں سے ایک سبق خیرات بھی ہے مگر اس کا اب طریق بدل گیا ہے انجمنوں میں دیتے ہیں کہ نام و نمود ہو۔مگر جو طریق قرآن کریم نے بتایا ہے۔اس کی طرف سے توجہ ہٹ گئی ہے۔فقراء بھی بڑھ گئے ہیں۔چیزیں بھی مہنگی ہوگئی ہیں۔چاہئیے تو یہ تھا کہ توجہ زیادہ ادھر ہوتی مگر اس کی طرف سے توجہ ہٹ گئی ہے۔لوگ ادھر ل : بخاری کتاب الصوم باب اجود ما كان النبي صلى اللہ علیہ وسلم یکون فی رمضان۔