خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 510

خطبات محمود جلد (5) طرف آج میں آپ لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ انسان دوسرے کی تکلیف اسی وقت سمجھ سکتا ہے جب وہ خود مبتلا ہو۔ایک آدمی جو کبھی بیمار نہ ہوا ہو اس کو دوسرے کی بیماری سمجھنا بہت مشکل ہے۔ایک آدمی جس نے کوئی موت نہ دیکھی ہو اس کو اس گھرانے کی مصیبت کو سمجھنا بہت مشکل ہے جس پر موت آگئی ہو۔وہ شخص جس نے غم نہ دیکھا ہواس کے لئے دوسروں کے غم کا اندازہ کرنا آسان نہیں۔بیماری کی تکلیف کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے بیماری اٹھائی ہو۔غم کو وہی جان سکتا ہے جوغم میں مبتلا ہوا ہو دوسرے کی موت سے وہی تکلیف محسوس کر سکتا ہے جسکے عزیزوں میں کبھی موت اس کے سامنے آئی ہو۔اسی طرح جس نے کبھی نہ دیکھا ہو کہ بھوک کیا ہے وہ نہیں سمجھ سکتا کہ بھو کے انسان کی کیا حالت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ چونکہ وہ اپنے بندوں کے دلوں میں احساس پیدا کرنا چاہتا ہے کہ اس کی مخلوق کن ابتلاؤں سے گزر رہی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ اپنی پیاری جماعتوں کو آزماتا ہے۔چنانچہ پہلے ہی پارہ میں آزمائشیں بیان فرماتا ہے کہ مالی آزمائشیں بھی آتی ہیں۔جانی بھی۔بھوک بھی اپنا کام کرتی ہے اور اور قسم کی آزمائشیں بھی آتی ہیں۔لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ آزمائش کی غرض کیا ہوتی ہے۔وہ سمجھ لیں کہ آزمائشوں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ان لوگوں میں ہمدردی پیدا ہو۔اللہ کے بندے بھوک سے گزارے جاتے ہیں۔موت اور قلت مال سے گزارے جاتے ہیں بیماریوں کے دروازوں سے گزارے جاتے ہیں۔خدا کے بندے ان تنگ دروازوں سے اس لئے نہیں گزارے جاتے کہ وہ ہلاک کئے جائیں بلکہ اس لئے کہ مخلوق خدا کی حالت سے انہیں ہمدردی پیدا ہو۔یہی بات ہے جس کے نہ سمجھنے کے سبب سے مسیح کو کفارہ بنایا گیا۔گناہ کے دور کرنے کا اور ذریعہ تھا۔مسیح کو مصلوب کرنا اسکا ذریعہ نہیں تھا۔یہ سچ ہے کہ خدا اپنے نبیوں کو تکالیف میں ڈالتا ہے تا ان کو معلوم ہو جائے کہ مخلوق خدا کن مشکلات میں سے گزر رہی ہے۔کوئی دُکھ نہ ہو۔جس کے ازالہ کیلئے ان میں جوش پیدا نہ ہو۔پس یہ ٹھیک ہے کہ مسیح صلیب دیئے گئے۔کفارہ کیلئے نہیں بلکہ اس لئے تا ان کو معلوم ہو کہ دنیا کس طرح گندی زندگی میں سے گذر رہی ہے اور وہ اسکا علاج کریں۔