خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 449

۴۴۸ 55 خطبات محمود جلد (5) تمام خوبیاں صرف خُدا تعالیٰ میں ہیں (فرموده ۱/۲۷ پریل ۱۹۱۷ء) حضور نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ:- انسان کا تجربہ اور مشاہدہ جتنا کم ہوتا ہے۔اتنا ہی وہ نئی چیزوں کو دیکھ کرنا پسند کرتا یا خوش آئند پا کر اس کے جوش زور سے ابھرتے ہیں۔لیکن جتنا اس کا مشاہدہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔اسی قدر اس کا جوش اس کے قابو میں آجاتا ہے۔دیکھو ایک سیاح جو دنیا کے مختلف کونوں میں پھر چکا اور جو مختلف قسم کی اشیاء کو دیکھ چکا ہے۔جب اس کی نظر کسی نئی چیز پر پڑے گی تو وہ اپنے جوش کو دبانے پر قادر ہوگا۔اور کسی نئی چیز کو دیکھ کر خوشی یا نا خوشی کے اظہار کے لئے بے اختیار نہیں ہو جائے گا۔برخلاف اس کے ایک بچہ ہے۔جس کا تجربہ اور مشاہدہ بالکل محدود ہوتا ہے یا ایک گاؤں کا رہنے والا۔ہل چلانے والا ہے جب وہ کسی نئی چیز کو دیکھتا ہے۔جو اسے خوشنما معلوم دیتی ہے تو اس کی آنکھیں اس کے پاؤں قابو میں نہیں رہتے خواہ کوئی کیسی ہی ادنیٰ چیز ہو۔مگر ہوایسی جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔تو وہ بڑی توجہ اور حیرانی سے اسے دیکھے گا۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کا مشاہدہ بہت محدود اور تنگ دائرہ تک ہوتا ہے۔غرض مشاہدہ کا کم ہونا اور وسعت نظر کا نہ ہونا ہر ایک نئی چیز کو عجوبہ اور عزت انگیز بنادیتا ہے۔ایک ایسا انسان جسے کبھی کوئی خاص خوشی نہ پہنچی ہو۔جب خوشی پہنچے تو وہ اس کے اظہار کے لئے بے اختیار ہو جاتا ہے۔اسی طرح ایک ایسا شخص کہ جس نے خوشی میں ہی اپنی تمام زندگی بسر کی ہو۔اس کو اگر کوئی معمولی سا رنج بھی پہنچ جائے تو وہ برداشت نہیں کرسکتا۔ایک مثل مشہور ہے۔خُدا بہتر جانتا ہے کہاں تک درست ہے۔کہتے ہیں ایک عورت تھی۔اس کو زیور بنوانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ایک دفعہ اس نے انگوٹھی بنوائی تو کسی نے انگوٹھی کی طرف توجہ نہ کی۔اس پر اس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی۔جب گھر جل کر راکھ کا