خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 434

۴۳۳ 53 خطبات محمود جلد (5) خُدا کی راہ میں کام کرنے والوں کو نصیحت فرموده ۳۰ مارچ ۱۹۱۷ء تشہد وتعوذ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں :۔قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ (الاخلاص) بعد ازاں فرمایا :- بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ جو کسی دینی خدمت کے لئے اپنے اوقات کا کوئی حصہ بھی نہیں نکال سکتے۔پھر کچھ لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں جو اپنے دنیاوی کاموں سے کچھ وقت بچا کر دین کی خدمت کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ان کے دو گروہ ہیں۔ایک وہ جو دین کی خدمت تو کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہیں اقرار ہوتا ہے کہ ہم کچھ نہیں کرتے۔اور دوسرے وہ جو کچھ دینی کام کر کے اسی پر فخر اور بڑائی کرتے ہیں کہ ہم فلاں کام کرتے ہیں یا فلاں خدمت خدا تعالیٰ کے راستہ میں بجالاتے ہیں۔جولوگ کچھ بھی دین کی خدمت نہیں کرتے وہ بھی بے شک بُرے ہیں۔لیکن وہ شست اور غافل کہلا سکتے ہیں۔مگر وہ جو کسی خدمت کے کرنے کی توفیق پاتے ہیں۔اور پھر اس پر اس طرح تکبر بڑائی اور فخر کرتے ہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ پر احسان جتلاتے ہیں وہ سست اور غافل نہیں کہے جاسکتے بلکہ متکبر اور مشرک کہلاتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ خُدا ہماری خدمت کا محتاج ہے اور ہم نے خدمت کر کے خُدا پر احسان کیا ہے۔پھر جولوگ کچھ خدمت کرتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کر رہے۔ہم سے جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے احسان اور فضل کے ماتحت ہی ہوتا ہے۔ان کے بھی دوگروہ ہیں ایک تو وہ گروہ جو منہ سے کہتا ہے کہ جی ہم کچھ نہیں کرتے اور نہ ہی کچھ کر سکتے ہیں۔یہ اور اس طرح کے کلمات سے وہ اپنا انکسار اور عاجزی ظاہر کرتا ہے۔لیکن در حقیقت اس کے دل میں تکبر ہوتا ہے اور عملاً اس کی حرکات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے اپنی خدمات سے خُدا