خطبات محمود (جلد 5) — Page 423
خطبات محمود جلد (5) ۴۲۲ ڈالے جائیں گے اور وہاں ان کو پیپ اور کھولتا ہوا پانی ملے گا۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی شخص معز ز نہیں مگر وہی جو متقی ہو۔اگر کوئی کہے کہ حضرت صاحب نے بھی بعض پیشہ کےلوگوں کے متعلق لکھا ہے۔تو اس کو معلوم ہو کہ آپ نے کسی پر طعن نہیں کیا۔بلکہ یہ فرمایا کہ ان میں سے مامور نہیں ہوسکتا۔کیونکہ دنیاوی لحاظ سے لوگ اس پر طعن کر سکتے ہیں۔ہاں وہ ولی اور خُدا کا دوست ہوسکتا ہے یہ ایسی ہی بات ہے جیسے آنحضرت نے فرمایا کہ اگر لوگوں کے فتنہ کا خیال نہ ہوتا تو میں موجودہ کعبہ کو مسمار کر کے اس کی اصل حدود پر قائم کر دیتا۔پس حضرت مسیح موعود کے یہ لکھنے کا یہی مطلب ہے۔کہ اگر خُدا ان کو مامور کرے تو لوگ طعن کریں گے۔ہاں وہ درجہ ولایت پاسکتے ہیں۔جب وہ ولی اور خُدا کے دوست ہو سکتے ہیں تو پھر وہ ذلیل کیونکر ہوئے۔کیا اللہ کے دوست بھی حقیر اور ذلیل ہو سکتے ہیں۔وہ لوگ اللہ کا خوف کریں جو لوگوں کو ذلیل سمجھتے ہیں۔اور دوسروں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں۔خُدا جس کو چاہتا ہے معز ز کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل بنا دیتا ہے۔سید یا پٹھان یا مغل ہونا خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا۔جیسا کہ یہودیوں کو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت یعقوب کی نسل سے ہونا ذلت اور رسوائی سے نہیں بچا سکا۔خدا کی گرفت سے متقی اور پرہیز گار لوگوں کے لئے رستگاری ہے۔خواہ وہ کسی قوم کے ہوں۔پس وہ لوگ جو دوسروں کے لئے فتنہ اور ابتلاء کا باعث ہوتے ہیں۔وہ جہنم کی آگ سے ڈریں۔کیونکہ خُدا تعالیٰ نے ان کے لئے یہی سزا مقرر فرمائی ہے۔اگر کوئی کسی کی قومیت پر اُسے ذلیل کرنے کے لئے حملہ کرتا ہے تو خُدا تعالیٰ اس کو ذلیل کر دیتا ہے۔اور کوئی کسی کے کہنے سے ذلیل نہیں ہو جاتا۔ذلیل وہی ہے جو خُدا کی نظر میں ذلیل ہو۔پس اپنی زبان کو تھام لو تمہیں کسی کے متعلق کچھ پتہ نہیں کہ کس قوم میں سے ہے۔پھر جھوٹی بات کی خاطر اپنے ایمان کو ضائع مت کرو۔اپنی گفتار کو درست کرو کہ خُدا کے انعام کے وارث بنو۔آمین ثم آمین۔الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۱۷ء)