خطبات محمود (جلد 5) — Page 396
۳۹۵ 47 خطبات محمود جلد (5) انسانی ترقی کی وسعت فرموده ۱۶ / فروری ۱۹۱۷ء حضور نے تشہد وتعوذ کے بعد سورہ فاتحہ پڑھ کر فرمایا :- اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی ترقی کے لئے اس قسم کے سامان مہیا ہیں کہ وہ جتنا بھی بلند ہونا چاہے اُتنا ہی ہوسکتا ہے۔اور جتنا بھی بڑھنا چاہے بڑھ سکتا ہے۔اس وقت تک کوئی انسان دنیا میں ایسا نہیں گذرا کہ جس کا حوصلہ اس قدر وسیع ہو۔اور جس کے دل میں اتنی وسعت ہو کہ دنیا میں اس کے کرنے کا کوئی کام باقی نہ رہا ہویا اس کے لئے ترقی کا سلسلہ بند ہو گیا ہو اور اُسے یہ کہنا پڑا ہو کہ میں تو کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔لیکن افسوس سب کام ختم ہو گئے۔اور میرے کرنے کا کوئی کام باقی نہیں رہا۔کوئی انسان اس قسم کا نہیں ہوا بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ بڑے سے بڑا حوصلہ رکھنے والا اور بڑی سے بڑی ہمت دکھانے والا اور بہت زیادہ محنت اور کوشش کرنے والا بھی جب کوئی انسان فوت ہوا ہے تو یہی کہتا ہو ا فوت ہوا ہے کہ میرے سامنے ترقی کرنے اور بڑھنے کا بہت وسیع میدان موجود تھا۔لیکن افسوس کہ میں نے کچھ ترقی نہ کی۔اور جو ارادے میرے دل میں تھے۔ان کو پورا نہ کر سکا۔اس کے برخلاف کوئی انسان ایسا نظر نہیں آتا۔جو یہ کہے کہ میرے سب کام ختم ہو گئے ہیں اب میں کروں تو کیا کروں۔اور باقی زندگی کو کس طرح خرچ کروں۔تمام علوم کو تو جانے دو۔کوئی شعبہ علم بھی ایسا نہیں۔جس کے متعلق کوئی کہہ سکے کہ میں نے اس کو کمال تک پہنچادیا ہے۔مثلاً جغرافیہ کو ہی لے لو۔کیسا محدود علم ہے مگر اس کے متعلق بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اس کے تمام منازل طے کر لئے ہیں۔اسی طرح اور دنیاوی علوم کو لو۔اور ان کی کسی شاخ کے کام کرنے والے کو دیکھو۔مثلاً تاجر صناع۔علمی تحقیقات کرنے والا۔سیاست دان۔منتظم۔غرضیکہ کسی رنگ میں کام کرنے والا ہو۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری وسعت اور حوصلہ تو بہت بڑا ہے۔لیکن کام کرنے کی جگہ نہیں رہی۔اور آگے بڑھنے کا میدان ختم ہو گیا ہے۔بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ جس قدر کوئی زیادہ کام کرنے والا ہوتا ہے۔اس قدر زیادہ یہ کہتا ہے کہ میرے آگے کام کرنے کا میدان تو بہت وسیع اور فراخ پڑا ہے لیکن میں کام کر نہیں سکا۔کیوں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے ترقی کرنے کا میدان بہت وسیع بنایا ہے۔اور بڑھنے کے لئے نہایت فراخ میدان رکھ دیا ہے اور ترقیوں کی کمی