خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 383

خطبات محمود جلد (5) ۳۸۲ سیاست کے متعلق کچھ قواعد بھی ہیں۔اور ان کی نگہداشت نہایت ضروری ہے۔لیکن اگر ان کو مد نظر نہ رکھا جائے تو پھر سیاست یا انتظام میں خرابی عظیم واقع ہو جاتی ہے۔سیاست کا سب سے بڑا قاعدہ یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں کوئی کام ہو۔دوسرے لوگ اس میں دخل نہ دیں۔مثلاً ایک گھوڑے کے لئے ایک سائیس رکھا گیا ہے۔لیکن ایک اور آدمی یہ خیال کر کے کہ ممکن ہے سائیں نے دانہ نہ دیا ہو دانہ دے دے۔حالانکہ پہلے دانہ دیا جا چکا ہو۔تو اس کا دانہ کھلانا کیسا بُرا ہوا۔یا مثلاً ایک عورت سالن پکا رہی ہو۔اور مرد اس خیال سے کہ ممکن ہے نمک نہ ڈالا گیا ہو۔خود نمک ڈال دے تو وہ ہنڈ یا یقینا خراب ہوگی۔تو اس طرح جانور کو دانہ کھلانے اور ہنڈیا میں نمک ڈالنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہنڈیا خراب اور جانور بیمار ہو جائے گا۔غرض سیاست کا سب سے بڑا اصل یہی ہے۔کہ کوئی کام جس کے سپر دہو۔دوسرا اس میں دخل نہ دے اور اگر دوسرے لوگ دخل دیں گے۔تو نتیجہ ہمیشہ خراب نکلے گا۔قرآن کریم میں آیا ہے۔وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ طَ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُوْلِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَهُ مِنْهُمْ - فرمایا کہ اگر یہ لوگ سیاست دان ہوتے تو وہ باتیں جو خواہ امن سے تعلق رکھتی ہوں یا خوف سے غیر اہل لوگوں کے پاس نہ پھیلاتے۔بلکہ اللہ کے رسول یا اُن لوگوں کے پاس جاتے جن کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے۔پھر وہ فیصلہ کرتے۔دوسرے لوگوں کا یہ کام ہے کہ خواہ کسی قسم کی بات ہو وہ ان تک پہنچا دیں۔اور ان کو واقف کر دیں۔جن کے سپر دیہ کام ہو۔پھر جوان کی سمجھ میں آئے وہ فیصلہ کر دیں یہ نہیں کہ انہیں اطلاع ہی نہ دی جائے۔اور خود بخود کسی بات کا فیصلہ کر لیا جائے۔یہ حکم تمام کاموں میں چلتا ہے۔ایک گھر سے لے کر بڑی سے بڑی حکومت تک۔اور ایک میاں بیوی سے لے کر ایک جماعت تک اور جو شخص اس کے خلاف کرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ہماری جماعت خدا کے فضل سے ایک بڑی جماعت ہے اور اس میں بھی ایک سیاست ہے۔حکومت کی بھی ایک سیاست ہے۔جو دنیوی امور سے تعلق رکھتی ہے۔لیکن ہماری سیاست دینی سیاست ہے۔اور جس طرح دنیوی سیاست کے خلاف عمل کرنا برے نتائج پیدا کرتا ہے۔اسی طرح دینی سیاست کے خلاف عمل کرنا بھی نہایت ہی خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے۔حکومت کی سیاست کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ تمام جسمانی طاقتوں کو باضابطہ ایک قاعدہ اور قانون کے ماتحت چلائے۔اور دینی سیاست کا یہ ہوتا ہے کہ رُوحانی طاقتیں بھی تمام کی تمام ایک نظام کے ماتحت ہوں۔پس جس طرح حکومت کی سیاست کے ماتحت جسمانی قوی سے عمدہ اور مفید نتیجہ پیدا کرنے کے لئے کوشش کی جاتی ہے۔اسی طرح روحانی طاقتوں سے بھی عمدہ نتائج پیدا کئے جاتے ہیں۔ل :- النساء : ۸۴