خطبات محمود (جلد 5) — Page 384
خطبات محمود جلد (5) ۳۸۳ لیکن اگر ہر ایک شخص سیاست حکومت میں دخل دے تو اس کا نتیجہ نہایت خراب نکلتا ہے۔مثلا اگر ایک شخص کسی کو قتل کر دے۔اور مقتول کا رشتہ دار قاتل کو قتل کر دے تو اُسے گرفتار کر لیا جائے گا۔اور اس پر مقدمہ چلایا جائے گا۔اگر چہ گورنمنٹ بھی قاتل کو قل ہی کرتی مگر چونکہ اس شخص نے سیاست کو اپنے ہاتھ لیا ہے اس لئے گورنمنٹ اس شخص کو نہیں چھوڑے گی۔اور ضرور سزا دے گی اس کا کوئی حق نہ تھا کہ قاتل کوقتل کرتا بلکہ اس کا فرض یہ تھا کہ اصحاب سیاست کے پاس جاتا۔اور تحقیقات کے بعد حکومت خواہ اس سے بھی سخت سزا دیتی۔جو اس نے دی یا مثلاً کسی شخص نے کسی سے کچھ روپیہ لینا ہو۔اور مقروض دینے سے انکار کرے۔تو لینے والے کا یہ حق نہیں ہے کہ اس سے چھین لے۔بلکہ اس کا فرض یہ ہے کہ حکومت تک اس بات کو پہنچا دے۔یہی بات دینی معاملات میں ہے۔اگر کوئی شخص جماعت کے کسی آدمی کا خلاف آئین و شریعت کوئی فعل دیکھے تو اس کا یہ حق نہیں ہے کہ خود ہی اس کے لئے کوئی سزا تجویز کرے بلکہ اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کو ان لوگوں تک پہنچا دے جو ذمہ دار ہیں یا جو دینی امور کو سر انجام دے رہے ہیں۔میں اپنی جماعت کے لوگوں کو تنبیہ کرتا ہوں کہ وہ ہر گز دوسروں کے کاموں میں دخل نہ دیا کریں۔اور جو کام جس کے سپرد ہو اس کو کرنے دیا کریں۔ہاں اگر وہ کوئی نادرست بات دیکھیں تو اُن کا فرض ہے کہ ہم تک اس کو پہنچا ئیں۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جماعت کے لوگوں میں کوئی شخص حضرت مسیح موعود کے کسی حکم کے خلاف کوئی بات کرتا ہے تو دوسرے لوگ اس کو جماعت سے خود بخود الگ کر دیتے ہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔ان کا فرض تو یہ ہے کہ ہمیں اطلاع دیں۔پھر ہم تحقیقات کریں گے۔اور جس طرح مناسب ہوگا کیا جائے گا۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی فعل کے بعد بچے دل سے تائب ہو جاتے ہیں۔لیکن جب وہ جماعت کے لوگوں کا اپنے ساتھ یہ سلوک دیکھتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے دل کی کیا حالت ہوتی ہوگی۔بعض دفعہ بالکل معمولی بات ہوتی ہے۔مگر ذاتی کاوشوں اور رنجشوں کی وجہ سے وہاں کے لوگ اس کو جماعت سے یا امامت سے الگ کر دینا چاہتے ہیں۔اور جب تحقیقات کی جاتی ہے تو وہ بات اتنی سخت معلوم نہیں ہوتی جسقدر کہ ظاہر کی جاتی ہے۔اس میں کیا شک ہے کہ اختلاف آپس میں ہوتا ہے۔اور کونسی ایسی بات ہے جس میں اختلاف نہ ہو۔مگر وہاں تک ہونا چاہیے جہاں تک ذاتی عناد تک نوبت نہ پہنچے۔دیکھود نیوی قانون جو کہ نہایت تنگ اور محدود ہے جب اس کو بھی کوئی شخص خود بخو داپنے ہاتھ میں لیکر سزا سے نہیں بچ سکتا تو شریعت کا قانون جس پر اجتہاد بھی کیا جا سکتا ہے۔اس کو کوئی ہاتھ میں لے کر کیسے سزا سے بچ سکتا ہے۔شریعت میں ایک حنفی کہلاتے ہیں اور ایک حنبلی ہیں۔اگر ان میں ایک دوسرے کے اخراج