خطبات محمود (جلد 5) — Page 364
۳۶۳ 42 خطبات محمود جلد (5) ایک مُبارک تجویز فرموده ۱۲ جنوری ۱۹۱۷ء تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءَ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا ط كَذَالِكَ يُبَيّنَ اللهُ لَكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَO اور فرمایا: - اتفاق و اتحاد کئی ایک رنگ کا ہوتا ہے۔ایک اتفاق یہ ہوتا ہے کہ آپس میں لڑیں نہیں۔دنگا فسادنہ کریں۔مل جل کر رہیں۔اس کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔کیونکہ لڑنے جھگڑنے والے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔یہ آئتیں جو میں نے اس وقت پڑھی ہیں۔ان کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ آپس میں لڑو جھگڑو نہیں۔اتفاق و اتحاد سے رہو۔اور دوسرا مطلب میرے نزدیک ان آیتوں کا وہ ہے جس پر کسی قوم کو ترقی کرنے کے لئے عمل کرنا ضروری ہے۔اگر آپس میں لڑنے والی قوم کی طاقت برباد ہو جاتی۔اور اتفاق سے کام کرنے سے قوم کا شیرازہ مضبوط ہوتا اور قوم ترقی کی طرف قدم اٹھاتی ہے۔تو جن لوگوں کی تعدا د شمن کے مقابلہ میں کم ہوتی ہے۔اور وہ آپس میں مل کر کام کرتے ہیں۔ان کے لئے یہ بہت مفید اور فائدہ مند ہوتا ہے۔پس جس طرح یہ ضروری ہے کہ آپس میں لڑیں نہیں۔اسی طرح اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ سب افرا دل کر متحدہ طور پر مجموعی کوشش سے دشمن کے مقابلہ میں کام کریں۔سب قومی کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹا ئیں اور قوم میں ایک بھی اس قسم کا فرد نہ ہو۔جو قومی کام سے ہٹا ہوا ہو یا جو کچھ نہ کچھ حصہ نہ لیتا ہو۔بلکہ مجموعی رنگ میں سب کے سب لگے ہوئے ہوں۔یہ بھی ایک اتفاق ہے اور اس کے بغیر کبھی ترقی نہیں ہوسکتی۔لیکن جب کوئی قوم اس طرح کام کرنے والی ہو تو پھر اس کے مقابلہ پر کوئی قوم نہیں ٹھہر سکتی۔پس صرف اس قدر اتفاق کافی نہیں کہ آپس میں لڑو نہیں جھگڑو نہیں۔بلکہ ترقی کے لئے ایک : - آل عمران ۱۰۳، ۱۰۴۔