خطبات محمود (جلد 5) — Page 353
۳۵۳ 40 خطبات محمود جلد (5) شعائر اللہ کی تعظیم (فرموده ۲۲ دسمبر ۱۹۱۶ء) سورہ فاتحہ تلاوت فرمانے کے بعد حضور نے یہ آیت پڑھی:- وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ LO یہ آیت جوسورہ فاتحہ کے بعد میں نے پڑھی ہے بہت چھوٹی سی آیت ہے اور اس کے اندر چند ہی لفظ ہیں لیکن انسان کے فرائض اور اس کی ذمہ داریوں کو اس میں ایسے صریح اور صاف اور کھلے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص سمجھ اور عقل سے کام لینے والا ہو تو اسی کے ذریعہ وہ اپنے تمام اعمال درست کر سکتا ہے۔سب انسانوں میں عقل اور سمجھ ہی کا فرق ہوتا ہے ورنہ ایک ہی قسم کے سب ہوتے ہیں آنکھ، کان ، ناک، منہ ،سر، پاؤں وغیرہ کے لحاظ سے تو سب برابر ہوتے ہیں لیکن باوجود اس کے کہ سب کا ایک ہی سر ہوتا ہے دو کسی کے نہیں ہوتے اور باوجود اس کے کہ سب کی آنکھیں دو ہی ہوتی ہیں تین رکسی کی نہیں ہوتیں اور باوجود اس کے کہ سب کے کان دو ہی ہوتے ہیں چار یا پانچ کسی کے نہیں ہوتے لیکن انہیں میں سے ایک تو اتنی ترقی کر جاتے اور اس قدر بلند ہو جاتے ہیں کہ دوسروں کی نظروں سے ہی پوشیدہ ہو جاتے ہیں اور ان کو آدمی نہیں سمجھا جاتا بلکہ خدا بنا لیا جاتا ہے گویا وہ اُڑ کر دوسرے انسانوں کی نظروں سے اس قدر بعید ہو جاتے ہیں کہ وہ ان کی اصلی حالت کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔ان کی انسانیت پوشیدہ ہو جاتی ہے اور کمالات اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں خدا بنا لیا جاتا ہے لیکن کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ کیا فرق ہوتا ہے اُس انسان میں جس کو خدا بنالیا جاتا ہے اور اس میں جو اس کے آگے سجدہ کرتا ہے یہی عقل کا ہی فرق ہوتا ہے ایک نے چونکہ عقل سے کام لیا اس لئے بہت بڑھ گیا اور دوسرے نے نہ لیا اس لئے وہ سجدہ کرنے والا بن گیا۔ایک بڑھا تو اتنا بڑھا کہ خدا سمجھ الج:۳۳