خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 297

خطبات محمود جلد (5) ۲۹۷ گھر نہیں آ سکتا بلکہ چار پائی پر اُٹھا کر اُسے لانا پڑتا ہے اور تم کہتی ہو کہ وہ شرادھ کھا کر آتے ہیں تو بیٹھ نہیں سکتے۔انہیں تو اتنا کھانا چاہیے کہ چل کر آ بھی نہ سکیں۔کھانا عمدہ چیز ہے مگر دیکھو اسکی بد استعمالی نے ایسے لوگوں کو کیسا نکتا اور سست کر دیا اسی طرح بعض لباس بھی بڑی شستی اور غفلت کا باعث ہوتے ہیں۔بعض لوگ تو اس قسم کا لباس استعمال کرتے ہیں کہ ذراسی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتے۔جو لوگ کالر لگاتے ہیں وضو کرنا ان کے لئے نا قابل برداشت تکلیف ہو جاتی ہے۔انہیں یہی فکر دامنگیر ہوتی ہے کہ کالر کو کہیں گیلی انگلی نہ چھو جائے۔ڈاڑھی کو اچھی طرح دھونا اور خلال کرنا ان کے لئے مصیبت ہوتی ہے اس لئے اکثر تو ڈاڑھی منڈاہی دیتے ہیں اور جور کھتے ہیں وہ بھی بہت چھوٹی۔اسی طرح پتلون ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ پتلون پہنے والے کو نماز کی صورت بدلنی ہی پڑتی ہے تاکہ کہیں پتلون میں بل نہ آجائے۔اسی قسم کے لباس انسان کو عیش پسند اور آرام طلب بنا کر سُست اور غافل کر دیتے ہیں۔پھر پینے کی چیزیں ہیں جو کیا جسمانی اور کیا روحانی دونوں رنگ میں انسان کے لئے مضر ہوتی ہیں۔یہ اس لحاظ سے بری نہیں کہ خدا نے ان کو بُرا بنایا ہے بلکہ ان میں برائی جو پیدا ہوگئی ہے تو ان کی بد استعمالی کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے۔یہ آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان میں خدا نے یہاں لفظ ہی ایسے رکھے ہیں جو ہر چیز کے شر اور نقصان سے بچنے کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔فرمایا قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہ رب الفلق کے حضور تم پناہ مانگو کہ وہ ان تمام اشیاء کے بدنتائج سے جو انسان کی شستی اور غفلت کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں تم کو ان سے محفوظ رکھے۔پھر چونکہ ظلمتیں بھی انسان کے لئے گمراہی کا باعث ہوتی ہیں اس لئے فرمایا اعوذ برب الفلق کہ جب تم ظلمت اور اندھیرے میں پڑ جاؤ تو روشنیوں کا پیدا کرنے والا رب ہے اس سے پناہ مانگو تا وہ تم کو ظلمت سے نکال کر روشنی میں لاوے۔فلق کے معنے پو پھٹنے کا وقت اور تمام مخلوقات کے بھی ہیں۔تو فرمایا تم تمام مخلوقات کا جو خدا ہے اُس کے حضور پناہ مانگو جو کچھ اس نے پیدا کیا اور اس سے جو بدنتائج پیدا ہو سکتے ہیں ان سے وہ تم کو محفوظ رکھے کیونکہ تمام چیزیں جو اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔جب انسان ان کا غلط استعمال کر بیٹھتا ہے تو وہ اس کے لئے مضر اور نقصان دہ ہو جاتی ہیں اس لئے تم کو ان کے پیدا کرنے والے کی طرف توجہ کرنی چاہیے بہت سے انسان ہیں جو عیاشی میں پڑ کر حد سے گذر جاتے ہیں۔جب اس کے بدنتائج کا منہ دیکھتے اور تکلیف اُٹھاتے ہیں تو پھر بے اختیار خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔یورپ کو دیکھو کس قدر ترقی کی۔اپنے سامانوں اور اپنی ایجادوں پر کس قدر اس کو ناز اور فخر تھا لیکن آج وہی سامان وہی ایجادیں وہی علوم اُس کی ہلاکت کا موجب ہو رہے ہیں۔ان کو ہر روز یہی فکر لگی رہتی ہے کہ معلوم نہیں سائنس آج کونسا موت کا آلہ ہمارے لئے تیار کرتی ہے۔پس ثابت ہوا کہ جس قدر اشیاء پائی جاتی ہیں اگر