خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 278

خطبات محمود جلد (5) ۲۷۸ ہو ہوتے بلکہ اور معنی بھی ہوتے ہیں۔اور پھر اس آیت میں تو ہم قوم کے معنی بھی چسپاں نہیں سکتے۔کیونکہ ان معنوں کی تردید تو خود مسلمان ہی کر رہے ہیں کیونکہ شریف مکہ کے آزاد ہونے پر کہتے ہیں کہ اس نے بغاوت اور سرکشی کی ہے اگر منکم سے مراد ہم قوم لئے جائیں تو شریف پر کسی طرح بھی کوئی الزام نہیں کیونکہ وہ قریشی النسب ہیں اس لئے اُنکے لئے یہ جائز ہی نہیں تھا کہ ترکوں کے ماتحت جو ایک غیر قوم ہے رہتے انہوں نے جو کچھ کیا ہے بالکل جائز اور درست کیا ہے۔پھر ان معنوں کے لحاظ سے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ مدینہ والوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنی جائز نہ تھی۔کیونکہ آپ ان کے ہم قوم نہ تھے مگر یہ کوئی تسلیم نہیں کرتا۔اس لئے یہ بات بھی رڈ ہو گئی کہ ہم قوم ہی اولی الامر ہو تو اس کی اطاعت کرنی چاہئیے۔اگر ایسا ہو تو چاہیے کہ مغل مغل کی اطاعت کریں۔راجپوت راجپوت کی۔اسی طرح تمام قو میں اپنی اپنی قوم کے حاکم کی اور اگر اپنی قوم کا حاکم نہ ہو تو پھر وہ بغاوت کر دیں پھر ہر قوم میں کئی ذاتیں ہوتی ہیں۔ہر ایک ذات والا کہے کہ میں تو اپنی ہی ذات کے حاکم کی اطاعت کروں گا۔دوسرے کی کرنا میرا فرض نہیں اور نہ ہی جائز ہے اس طرح تو کوئی حکومت دنیا میں رہ ہی نہیں سکتی اور نہ کوئی حکمران حکومت کر سکتا ہے اس لئے منکم کے معنے ہم قوم بھی نہ ہو سکے۔اب یہ سوال ہوتا ہے کہ پھر منکم کے معنے کیا ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ منکم کے معنے اس جگہ تم پر کے ہیں اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان محکام کی اطاعت کرو جو تم پر حاکم ہیں۔اور جس طرح رُسُلٌ مِّنكُمْ والی آیت میں منکم کا ترجمہ نہ تو ہم مذہب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہم قوم۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔اور آپ ساری دنیا کے ہم قوم نہیں کہلا سکتے۔اسی طرح اس آیت میں بھی یہ ترجمہ جائز نہیں بلکہ اس جگہ اور ترجمہ کرنا پڑے گا جو قرآن کریم کے دوسرے احکام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو۔اور وہ یہی ترجمہ ہے کہ ان حکام کی اطاعت کرو جو تم پر حاکم ہیں۔اور لغت ان معنوں کی تائید کرتی ہے۔اور مین کے معنے عربی زبان میں کبھی فی اور کبھی علی کے بھی آتے ہیں۔پس منکُم کے یہ معنے ہوئے کہ تم میں یا تم پر۔جس کو ہم نے اُولی الامر بنا کر بھیجا۔اس کی اطاعت کرو۔اور اس لفظ کے بڑھانے میں یہ حکمت تھی کہ اگر صرف اولی الا مرہی ہوتا تو یہ