خطبات محمود (جلد 5) — Page 246
خطبات محمود جلد (5) ۲۴۶ ان خاص باتوں کے کہ جو ابتلاء کا موجب بن سکتی تھیں یا ایسی خاص کیفیات جن کا بیان کرنا ہی ناممکن تھا۔صحابہ کو تو عمدہ اور مفید باتوں کی اشاعت کرنے کا یہاں تک شوق تھا کہ ایک صحابی جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات بتائی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ خاص تیرے ہی لئے ہے۔اسے کسی کو نہ بتائیو۔جب فوت ہونے لگا تو اس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک بات بتائی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ کسی کو نہ بتانا۔اس لئے میں اس کے بتانے سے ڈرتا ہوں لیکن قرآن کریم اور رسول کریم کا یہ حکم ہے کہ جو اچھی بات تمہیں معلوم ہو وہ دوسروں کو بتاؤ۔اب میں کروں تو کیا کروں۔آخر کار اس نے یہی فیصلہ کیا کہ میں یہی پسند کرتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ خاموش رہوں بتا ہی دوں۔اور نہ بتانے کے گناہ کے مقابلہ میں بتانے والا گناہ اٹھالوں لے۔تو صحابہ اس قدر جوش رکھتے کہ دوسروں کو ہر ایک ایسی بات سے جسے وہ اپنے لئے مفید سمجھتے تھے بتا دیتے تھے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں ہر قسم کے علوم وفنون بڑھے۔لیکن مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ آیا۔جبکہ وہ ہر ایک اچھی بات کو چھپا چھپا کر رکھتے تھے۔طبیب اپنے نسخوں کو۔مولوی اپنے وردوں کو۔صوفیاء اپنے رنگوں کو دوسروں پر ظاہر نہیں کرتے تھے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ ان میں علم رہا۔نہ نیکی رہی۔نہ تقویٰ رہا۔نہ برتری رہی۔جنس کو دیکھ کر جنس ترقی کیا کرتی ہے۔لیکن جب انہوں نے دین کی باتیں بھی چھپانی شروع کیں تو نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیاوی علوم سے بھی جاہل ہو گئے۔اور ان کی اولا د بھی جاہل ہو گئی۔اگر وہ ایک دوسرے کو بتاتے اور ان باتوں کو پھیلاتے تو آج ان کی یہ حالت ہر گز نہ ہوتی۔تعجب کی بات ہے کہ ہماری جماعت میں سے بھی بعض لوگ ایسے نکل آئے ہیں کہ جو نیکی کی باتوں کو پھیلا نا نہیں چاہتے۔میں نے پچھلے دنوں دعا کے متعلق خطبے پڑھے تھے۔ان کے متعلق کسی شخص کا میرے نام خط آیا۔اس کا نام تو پڑھا نہیں گیا۔لیکن چونکہ اس نے میری طرف خط لکھا ہے۔اس لئے خیال گزرتا ہے کہ وہ احمدی ہی ہوگا۔وہ لکھتا ہے کہ آپ نے قبولیت دعا کے بخاری کتاب العلم باب مَنْ خَصَّ بالعلم قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ۔