خطبات محمود (جلد 5) — Page 241
خطبات محمود جلد (5) ۲۴۱ نے ہوا کا ایسا خزانہ کھولا ہوا ہے کہ جس میں کبھی کی نہیں آسکتی اسی بات کی وجہ سے اس کے دل میں بھی تنگی نہیں آتی۔حالانکہ فوائد اور ضرورت کے لحاظ سے تمام اشیاء سے اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔تو بخل کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ انسان کا دل تنگی کرتا ہے۔وہ کہتا ہے اگر میں نے یہ چیز خرچ کی تو میرے پاس کم ہو جائے گی۔یا کم ہو جانے کا اسے خطرہ ہوتا ہے۔مثلاً ایک آدمی کے پاس اگر کروڑوں کروڑ روپیہ ہو تو گو وہ اس قدر کم نہیں ہوگا کہ اسے تکلیف اٹھانی پڑے۔تاہم وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے خرچ کیا تو کم ضرور ہو جائے گا۔اسی طرح ایک غریب آدمی جس کے پاس ایک دو روپے ہوں وہ بھی خرچ نہیں کرتا۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر ان کو میں نے خرچ کر دیا تو ضرورت کے وقت مجھے تکلیف ہوگی۔غرض بخل اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ یا تو چیز کا کم ہو جانا خیال میں ہوتا ہے یا کم ہو جانے کا خطرہ اور ڈر ہوتا ہے۔لیکن جہاں یہ دونوں باتیں نہ ہوں وہاں اس کے خرچ کرنے میں کوئی شخص دریغ نہیں کرتا۔مگر بڑا تعجب آتا ہے اور بڑی حیرت ہوتی ہے کہ نادان انسان اپنی نادانی کی وجہ سے ادھر مال کے متعلق جو بخل اور کنجوسی کرے اس پر بنی کرتا اور اس کا بخیل اور کنجوس نام رکھتا ہے۔اور کہتا ہے کیا ہوا۔اگر چیز کم ہو جاتی ہے تو زیادہ بھی تو ہو ہی جاتی ہے۔پھر زندگی کا کیا اعتبار ہے ممکن ہے آج ہی جان نکل جائے۔اور تمام جمع کیا کرا یا دھرار ہے۔پھر مال تو ہاتھوں کی میں ہے۔ہاتھ سلامت رہے تو اور مل رہے گا۔اور اگر ہاتھ ہی نہ رہے تو مال کی بھی ضرورت نہ رہے گی غرض بہت زور اور دلائل کے ساتھ بخیل پر جنسی اور ملامت کرتا ہے۔مگر باوجود اس کے اس کے کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے متعلق وہ دوسروں پر اعتراض کرتا بلکہ ان کے خلاف وعظ اور نصیحت بھی کرتا ہے۔لیکن ان میں وہ خود بخل سے کام لیتا ہے اور پھر تعجب یہ ہے کہ ایسی چیزوں میں بخل کرتا ہے کہ جن کے کم ہونے کا بالکل خطرہ نہیں ہوتا۔ایک مالدار بخل کرتا ہے مگر اس کی وجہ وہ یہ قرار دیتا ہے کہ اگر میں خرچ کروں تو شائد میرا مال کم ہو جائے۔حتی کہ اسی خیال میں وہ مر بھی جاتا ہے اور خود بھی کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتا۔بے شک ایسا شخص قابل الزام ہے۔اور بے شک اس نے اللہ پر بھروسہ نہیں کیا۔اور بے شک بنی نوع انسان پر کہ جس