خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 232

خطبات محمود جلد (5) ۲۳۲ رشید الدین صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ وہاں موجود تھے۔حضرت مولوی صاحب نبض دیکھ رہے تھے آپ نے نبض دیکھتے دیکھتے حضرت صاحب کو کہا حضور حالت نازک ہے۔مشک لائیں۔حضرت صاحب ابھی مُشک لائے بھی نہ تھے کہ دم نکل گیا۔حضرت مولوی صاحب نے چونکہ حضرت صاحب کو مبارک احمد کی بیماری میں خاص محبت اور خاص جوش سے علاج کرتے اور خیال رکھتے دیکھا تھا اس لئے جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے اور منہ سے کچھ نہ کہہ سکے۔دوسرے لوگوں نے بھی یہی خیال کیا کہ حضرت صاحب کو اس سے بڑا صدمہ ہوگا۔لیکن حضرت صاحب کو دیکھو۔آپ نے جہاں مشک رکھی ہوئی تھی وہیں کارڈ اور لفافے بھی رکھے ہوئے تھے۔جب آپ نے مبارک احمد کے فوت ہو جانے کے متعلق سنا تو وہیں سے مشک نکالنے کی بجائے کارڈ اور لفافے نکال کر خط لکھنے شروع کر دیئے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے۔گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔اس وقت آپ کے چہرہ پر کسی قسم کی گھبراہٹ کا کوئی نشان نہ تھا۔بلکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کو کوئی بہت بڑی فتح نصیب ہوئی ہے پھر آپ باہر تشریف لائے۔ابھی تک لوگوں کو معلوم نہ ہوا تھا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے۔آپ نے رضا بالقدر کے متعلق ایک لمبی تقریر شروع فرما دی آپ کے چہرہ سے ایسی بشاشت ٹپکتی تھی کہ گویا کسی بڑے دشمن کو شکست دے کر آئے ہیں۔تو مومن پر جو مصائب اور ابتلاء آتے ہیں۔وہ اس کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں کیونکہ خدا کی طرف سے اسے بتایا جاتا ہے اس لئے اس کے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔مومن پر ہر ایک مصیبت جو آتی ہے وہ اپنے ساتھ دونشان رکھتی ہے ایک اس کے آنے کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اور ایک جانے کے ساتھ۔جب آنے والا پورا ہو جائے جو دشمنوں سے تعلق رکھتا ہے۔تو پھر اس کے جانے والا نشان پورا ہونا ہوتا ہے جو مومنوں سے متعلق ہونا ہوتا ہے۔اس لئے وہ بہت زیادہ اور بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں۔اور جب کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کا ایمان بہت ترقی کر جاتا ہے۔اس قسم کے مصائب وغیرہ کا آنا خدا تعالیٰ کی سنت ہے۔جو پہلے لوگوں سے ہوتی آئی ہے۔اس زمانہ میں اس کے خلاف ہماری جماعت کے ساتھ بھی نہیں ہو سکتا۔