خطبات محمود (جلد 5) — Page 182
خطبات محمود جلد (5) ۱۸۲ چلو گے تو میں تمہاری دعائیں قبول کرلوں گا۔جب یہ یقین ہو تو پھر دعا قبول ہوتی ہے لیکن اگر کوئی زبان سے دعا تو کرتا ہے لیکن اسے یقین نہیں کہ خدا اس کی دعا قبول کر لے گا تو کبھی اس کی دعا قبول نہ ہو سکے گی۔کیونکہ خدا تعالیٰ بندہ کے یقین پر دعا قبول کرتا ہے۔اگر کسی کو یقین ہی نہ ہو تو لاکھ ماتھا رگڑے ناک گھساتے گھساتے دب جائے۔حلق بیٹھ جائے کبھی دعا قبول نہیں ہوگی۔کیونکہ جس کو خدا پر امید نہیں ہوتی۔اس کی دعا وہ نہیں سنتا۔فرماتا ہے۔لَا تَايْنَسُوا مِنْ روح الله (يوسف : ۸۸) اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید نہ ہو۔اللہ کی رحمت سے کوئی نا شکرا انسان ہی نا اُمید ہوتا ہے ورنہ جس نے اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے اس قدر نشان دیکھے ہوں جن کو وہ گن بھی نہ سکتا ہو۔وہ ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال نہیں کر سکتا کہ میرا فلاں کام خدا نہیں کرے گا۔اور فلاں دعا قبول نہیں ہوگی۔خواہ اس کی کیسی ہی خطرناک حالت ہو اور کیسی ہی مشکلات اور مصائب میں گھرا ہوا ہو۔پھر بھی وہ یہی سمجھتا اور یہی یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ایک ادنیٰ سے ادنی اشارہ سے بھی یہ سب کچھ دور ہوسکتا ہے اور خدا ضرور دور کرے گا اور اگر اسے دعا کرتے کرتے ہیں سال بھی گذر جائیں تو بھی یہی یقین رکھتا ہے کہ میری دعا ضائع نہیں جائے گی۔اور اس وقت تک دعا کرنے سے باز نہیں رہتا جب تک کہ خدا تعالیٰ ہی منع نہ کر دے کہ اب یہ دعا مت کرو۔گو اس کی دعا قبول نہ ہو لیکن آخر کا ر خدا تعالیٰ کے کلام کا شرف تو حاصل ہو گیا کہ خدا نے فرما دیا کہ اب دعا نہ مانگو۔تو جب تک خدا تعالیٰ نہ کہے اس وقت تک دعا کرنے سے نہیں رکنا چاہیئے۔دعا قبول نہ ہو تو بھی انسان کو یہ نہیں چاہیئے کہ وہ دعا کرنا چھوڑ دے۔کیونکہ اگر اب قبول نہیں ہوئی تو پھر سہی پھر سہی دیکھو بعض اوقات جب بچہ ماں باپ سے پیسہ مانگتا ہے تو اسے نہیں بھی ملتا۔لیکن اس کے بار بار کے اصرار پر مل ہی جاتا ہے اس طرح انسان کو کرنا چاہیئے۔اگر ایک دفعہ دعا قبول نہ ہو تو دوسری دفعہ سہی۔دوسری دفعہ نہ ہو تو تیسری دفعہ سہی۔تیسری دفعہ نہ ہو تو چوتھی دفعہ سہی۔حتی کہ کبھی تو ہو ہی جائے گی۔اس لئے مانگنے سے نہیں رکنا چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ دو قسم کے گدا گر ہوتے ہیں۔ایک وہ جو دروازے