خطبات محمود (جلد 5) — Page 176
خطبات محمود جلد (5) ۱۷۶ جن سے انسان اللہ تعالیٰ کو خوش کر کے جہاں تک آقا اور مالک خالق اور مخلوق مالک اور مملوک کا تعلق ہے اپنی بات منوا سکتا ہے جیسے ایک بچہ اپنے باپ سے اور شاگرد اپنے استاد سے منوالیتا ہے مگر ایسا کوئی بچہ نہیں ہو سکتا جو باپ سے اپنی ہر بات منوا لے اور نہ ایسا کوئی شاگرد ہوسکتا ہے جو استاد سے جو چاہے منظور کر والے۔کوئی جاہل اور نادان باپ یا استاد ہر ایک بات مان لے تو یہ ایک الگ بات ہے جیسا کہ کہتے ہیں کسی پٹھان نے اپنے لڑکے کو پڑھانے کے لئے ایک استا در کھا تھا ایک دن استاد نے لڑکے کے سبق یاد نہ کرنے پر اسے سخت پیٹنا شروع کر دیا۔لڑکا تو تلوار لے کر مارنے پر آمادہ ہو گیا۔استاد بیچارہ جان بچانے کے لئے بھاگا۔وہ اس کے پیچھے دوڑا۔راستہ میں لڑکے کا باپ مل گیا۔استاد صاحب نے سمجھا کہ اب جان بچ جائے گی۔اس لئے اس کے پاس جا کر کہنے لگا دیکھئے آپ کا لڑکا مجھے قتل کرنا چاہتا ہے اس کو روکیئے۔اس نے کہا کہ بھا گومت ٹھہر جاؤ۔میرے بیٹے کا یہ پہلا وار ہے خالی نہ جانے پائے۔تو کوئی بیوقوف ہی ایسا کر سکتا ہے نہ کہ عقلمند۔پس میں جو دعاؤں کے قبول ہونے کا طریق بتاؤنگا وہ ایسا ہی ہوگا کہ جس سے خدا زیادہ دعائیں قبول کر لے گا نہ ایسا کہ ہر ایک دعا کو قبول کر لے گا۔پہلا طریق جس سے دعا ئیں قبول ہوتیں اور کثرت سے خدا تعالیٰ سنتا ہے وہ تو اس قسم کا ہے کہ ہر ایک انسان اسے اختیار نہیں کر سکتا۔بلکہ خاص خاص انسان ہی اس پر چل سکتے ہیں کیونکہ وہ انسان کے کسب سے متعلق نہیں بلکہ اس کے رتبہ اور مرتبہ سے تعلق رکھتا ہے اس مرتبہ کا جو انسان ہوتا ہے اس کی نسبت تو میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ اسکی ہر ایک دعا قبول ہو جاتی ہے۔ابھی میں نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ انسان کی ہر ایک دعا قبول نہیں ہوتی۔مگر اب میں نے کہا ہے کہ اس مرتبہ کے انسان کی ہر ایک دعا قبول ہو جاتی ہے ان دونوں باتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔لیکن جب میں یہ بتاؤں گا کہ وہ مرتبہ کیا ہے تو آپ لوگ خود بخود سمجھ جائیں گے کہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔میں نے اس مرتبہ اور مقام کا نام آلہ یعنی ہتھیار رکھا ہوا ہے جس کے ہاتھ میں ہتھیار ہو وہ اسے جہاں چلائے چلتا ہے اور اگر وہ ہتھیا رضرب نہ لگائے تو اس کا قصور نہیں ہوتا بلکہ چلانے والے کا ہوتا ہے لیکن کوئی چلانے والا یہ کبھی