خطبات محمود (جلد 5) — Page 141
خطبات محمود جلد (5) ۱۴۱ دعا ایک ایسی طاقتور چیز ہے کہ دنیا میں اور کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور بھی بہت بڑی بڑی طاقتیں ہیں مثلاً پانی کی طاقت بجلی وغیرہ کی طاقت ہے۔مگر دعا کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ایک بزرگ کی نسبت لکھا ہے کہ وہ جس جگہ رہتے تھے انکے پڑوس میں ایک بڑا امیر رہتا تھا۔جو ہر وقت گانے بجانے میں مشغول رہتا۔جس سے انہیں سخت تکلیف ہوتی۔ایک دن وہ اس کے پاس گئے اور جا کر کہا کہ دیکھو بھی میں تمہارا ہمسایہ ہوں۔اس لئے میرا بھی تم پر حق ہے اول تو تمھیں اس لغو کام سے خود ہی رُک جانا چاہیئے تھا۔لیکن اگر ایسا نہیں کیا تو اب میری خاطر ہی اسے ترک کر دو۔کیونکہ مجھے اس سے سخت تکلیف ہوتی ہے وہ چونکہ بڑا کیس اور صاحب رسوخ تھا اس نے کہا تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے۔ہم کبھی نہیں رکیں گے۔انہوں نے کہا اگر آپ اس طرح نہیں رکیں گے تو ہم بھی مجبور ہیں ہم اور طرح سے روکیں گے اس نے کہا کیا تم روکو گے۔کیا تم میں اتنی طاقت ہے۔میں ابھی سرکاری گارد منگواتا ہوں۔انہوں نے کہا ہم گارد کا بھی مقابلہ کریں گے۔اس نے کہا تم انکا کیا مقابلہ کر سکتے ہو۔انہوں نے کہا۔نادان ! ہمارا مقابلہ تو پوں اور بندوقوں سے نہیں ہوگا بلکہ سہام اللیل سے ہوگا۔لکھا ہے۔یہ الفاظ انہوں نے کچھ ایسے درد ناک لہجہ میں فرمائے کہ اس کی چھینیں نکل گئیں اور بول اٹھا۔اس کا مقابلہ نہ میں کرسکتا ہوں نہ میرا بادشاہ کر سکتا ہے۔آئندہ کے لئے میں اقرار کرتا ہوں کہ آپ کو گانے بجانے کی آواز نہیں سنائی دے گی۔تو دعا میں وہ طاقت ہے کہ کوئی توپ و تفنگ اسکا مقابلہ نہیں کرسکتی۔کیوں؟ اس لئے کہ یہ تیر زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے آتے ہیں۔پھر انسانوں کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ خدا انسانوں سے لے کر خود پھینکتا ہے اور خدا کے پھینکے ہوئے کو کوئی روک نہیں سکتا۔کہتے ہیں کہ زمین میں کشش ہے اس لئے جس قدر بلندی سے کوئی چیز گرے اسی قدر زور سے گرتی ہے۔خدا تعالیٰ یوں بھی سب بلندیوں سے بلند تر ہے اس لئے اس کے ہاں سے آیا ہوا تیر کوئی روک نہیں سکتا۔وہ پہاڑوں کی روکوں اور قلعوں کی دیواروں کو چیرتا اور سب پر دوں کو چاک کرتا ہوا منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے۔پس دعا ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جوسب سے بڑا اور یقینی ہے اس سے میرا مطلب یہ نہیں کہ دیگر ذرائع سے کام نہ لیا جائے۔کیونکہ جو لوگ دیگر